لاہور/کراچی: پاکستان سپر لیگ کا گیارہواں ایڈیشن اپنے سنسنی خیز اختتامی مرحلے کی جانب بڑھ رہا ہے، لیکن پلے آف جیسے اہم مقابلوں کے دوران تماشائیوں کی عدم موجودگی نے کرکٹ شائقین اور ماہرین کے درمیان ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اگرچہ وزیراعظم شہباز شریف نے فرنچائز مالکان کی درخواست پر 3 مئی کو ہونے والے فائنل کے لیے تماشائیوں کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت دے دی ہے، تاہم پلے آف مرحلے کے بقیہ میچز کو تماشائیوں کے لیے بند رکھنے کے فیصلے پر عوامی سطح پر سخت مایوسی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ پی ایس ایل 11 کا آغاز مارچ میں علاقائی کشیدگی اور ایندھن کے بحران کے باعث حکومتی “کفایت شعاری پالیسی” کے تحت ہوا تھا، جس کی وجہ سے تمام میچز کراچی اور لاہور کے خالی اسٹیڈیمز میں کھیلے گئے۔ اب جبکہ ٹورنامنٹ اپنے اختتام پر پہنچ چکا ہے اور پشاور زلمی، ملتان سلطانز اور اسلام آباد یونائیٹڈ جیسی ٹیمیں کوالیفائی کر چکی ہیں، شائقین کا موقف ہے کہ کرکٹ کی اصل روح تماشائیوں سے ہے اور ان اہم میچوں سے عوام کو محروم رکھنا ناانصافی ہے۔
کرکٹ کے مداحوں اور سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ جب ملک میں کرکٹ ہو رہی ہے تو اسٹیڈیمز میں رونق کیوں نہیں؟ پلے آف مرحلے میں ٹیموں کے درمیان کانٹے کے مقابلے متوقع ہیں اور ان میچوں کو “اوپن” نہ کرنا نہ صرف شائقین کے حق کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے لیگ کی برانڈ ویلیو اور کھلاڑیوں کے حوصلے پر بھی اثر پڑتا ہے۔
پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی نے گزشتہ روز فائنل کے لیے تماشائیوں کی منظوری کا اعلان کیا تھا، لیکن عوامی مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ 28 اپریل سے شروع ہونے والے کوالیفائر اور ایلیمینیٹرز کے لیے بھی تماشائیوں کو داخلے کی اجازت دی جانی چاہیے۔ کرکٹ شائقین نے پی سی بی اور وفاقی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں تاکہ پاکستان کا سب سے بڑا اسپورٹس ایونٹ اپنی پوری آب و تاب اور عوامی جوش و خروش کے ساتھ اختتام پذیر ہو سکے۔
دیکھئیے:پی ایس ایل 11 فائنل: وزیراعظم کی تماشائیوں کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت، ٹکٹوں کی قیمتیں اور شیڈول جاری