اسلام آباد: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سلطنت عمان کے دورے کے بعد ماسکو روانہ ہونے کے بجائے اچانک دوبارہ پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ اس وقت فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقات کر رہے ہیں، جس میں علاقائی سلامتی، کشیدگی کے خاتمے اور امن عمل میں پاکستان کے کلیدی کردار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔
ایرانی حکام کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق عباس عراقچی اسلام آباد میں چند گھنٹے قیام کریں گے، جس کے بعد وہ اپنے طے شدہ شیڈول کے تحت روس کے لیے روانہ ہوں گے۔ ان کا خصوصی طیارہ تہران سے اسلام آباد پہنچ رہا ہے جہاں سے وہ اپنی اگلی منزل کی جانب پرواز کریں گے۔
Iran's Foreign Minister Abbas Araghchi has reportedly received the green light from Tehran to discuss points that Pakistan has been seeking to put forward in negotiations with the U.S., Saudi Al-Arabiya reports citing Pakistani sources.
— Ariel Oseran أريئل أوسيران (@ariel_oseran) April 26, 2026
Pakistan is awaiting Iran's approval for a…
ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایرانی وزیر خارجہ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں علاقائی سلامتی اور امن عمل میں پاکستان کے کلیدی کردار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس، بشمول سعودی چینل ‘العربیہ’ کے مطابق، عباس عراقچی کو تہران کی جانب سے ان نکات پر بات چیت کے لیے گرین سگنل مل چکا ہے جو پاکستان امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں پیش کرنا چاہتا ہے۔ رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان، امریکی حکام کے ساتھ ممکنہ ملاقات کے لیے ایران کی حتمی منظوری کا منتظر تھا۔
یہ سفارتی پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے ایک نئی اور “پہلے سے کہیں بہتر” تجویز پیش کی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق یہ تجویز امریکی مذاکراتی ٹیم کا دورہِ پاکستان منسوخ کرنے کے محض 10 منٹ بعد سامنے آئی۔
ایرانی وزیر خارجہ کا یہ دوبارہ قیام اور عسکری قیادت سے ملاقات سفارتی حلقوں میں انتہائی اہمیت کی حامل قرار دی جا رہی ہے، خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب وہ اپنے پہلے دورہِ پاکستان کو “نہایت سود مند” قرار دے چکے ہیں۔ عباس عراقچی نے پاکستان کی جانب سے خطے میں قیامِ امن کے لیے کی جانے والی مخلصانہ کوششوں کا بھرپور خیر مقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے ایک قابلِ عمل فریم ورک پیش کر دیا ہے اور اب گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے کہ وہ سفارت کاری کے حوالے سے کتنا سنجیدہ ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ مسقط کے بعد دوبارہ پاکستان آنا اور اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت سے مشاورت اس بات کی علامت ہے کہ تہران خطے میں امن کی بحالی کے لیے اسلام آباد کی سفارتی بصیرت اور ثالثی کی کوششوں پر گہرا اعتماد رکھتا ہے۔ یہ دورہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان کا غیر جانبدارانہ اور امن پسندانہ موقف عالمی سطح پر ایک تسلیم شدہ حقیقت بن کر ابھرا ہے۔