اسلام آباد: نیشنل پریس کلب کے نام اور لوگو کا غیر قانونی استعمال کرتے ہوئے غیر ملکی صحافیوں کو گمراہ کرنے پر صحافتی برادری اور کلب کے اراکین میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا اور صحافتی حلقوں میں جاری بحث میں یہ مطالبہ شدت اختیار کر گیا ہے کہ مطیع اللہ جان نے جس طرح ادارے کی منتخب باڈی کو اندھیرے میں رکھ کر ذاتی حیثیت میں تقریب منعقد کی اور شیلڈز پر ادارے کا نام استعمال کیا، وہ سراسر دھوکہ دہی اور اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔
نیشنل پریس کلب کے اراکین نے صدر اور انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ مطیع اللہ جان کی جانب سے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے پر ان کی کلب کی رکنیت فی الفور منسوخ کی جائے اور انہیں پریس کلب سے بے دخل کیا جائے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ شیلڈز پر “منتخب باڈی کی جانب سے” لکھنا جبکہ اصل قیادت اس سے مکمل لاعلم تھی، نہ صرف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے بلکہ ایک سنگین قانونی جرم بھی ہے جس کا مقصد عالمی میڈیا کے سامنے ادارے کو متنازع بنانا تھا۔
عوامی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے حکومت اور متعلقہ حکام سے یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ صحافت کے مقدس لبادے میں بیرونی ایجنڈے کی تکمیل اور قومی حساسیت کو پامال کرنے والے ایسے عناصر کی میڈیا پر موجودگی پر پابندی عائد کی جائے۔ سوشل میڈیا پر صارفین کا کہنا ہے کہ جو شخص اپنے ہی پیشہ ورانہ ادارے کو دھوکہ دے سکتا ہے اور متنازع شیلڈز کے ذریعے ملکی وقار کو ٹھیس پہنچا سکتا ہے، اسے قومی سطح پر نمائندگی کا کوئی حق نہیں۔
پریس کلب کے منتخب عہدیداران نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مطیع اللہ جان کو باقاعدہ طور پر مطلع کیا گیا تھا کہ وہ اس تقریب سے باز رہیں، لیکن انہوں نے دانستہ طور پر حکم عدولی کی۔ اب صحافتی برادری کی نظریں کلب کی انتظامیہ پر لگی ہیں کہ وہ ادارے کے وقار اور تحفظ کے لیے اس “بہروپئے” کے خلاف کیا تادیبی کارروائی عمل میں لاتی ہے۔ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایسی تادیبی کارروائی کی جائے جو آئندہ کسی بھی شخص کو قومی پلیٹ فارمز کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنے سے باز رکھ سکے۔
دیکھئیے:پاکستان کا ایران کے لیے بڑی تجارتی سہولت کا اعلان؛ تیسرے ملک تک رسائی کے لیے ٹرانزٹ روٹس کی اجازت