پاک افغان سرحد پر واقع چمن اور سپین بولدک کے مقامات پر گزشتہ رات پاکستانی سکیورٹی فورسز اور افغان طالبان کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔ ان جھڑپوں میں دونوں اطراف سے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصانات کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
لڑائی کا آغاز اور دورانیہ
ذرائع کے مطابق سرحدی تنازع پر شروع ہونے والی یہ لڑائی رات پونے دس بجے قندھار اور چمن سیکٹر کے مختلف مقامات پر بیک وقت شروع ہوئی۔ دونوں جانب سے وقفے وقفے سے فائرنگ اور گولہ باری کا تبادلہ کافی دیر تک جاری رہا، جس کے باعث سرحدی علاقوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق طویل دورانیے کے بعد اب فائرنگ کا سلسلہ تھم چکا ہے، تاہم فضا اب بھی سوگوار اور کشیدہ ہے۔
جانی نقصانات کی تفصیلات
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان شدید جھڑپوں کے نتیجے میں پاک فوج کے 4 جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا ہے، جبکہ جوابی کاروائی میں افغان فورسز کے 6 اہلکاروں کی ہلاکت کی رپورٹ سامنے آئی ہے۔ دونوں اطراف سے زخمی ہونے والے اہلکاروں کو قریبی طبی مراکز منتقل کر دیا گیا ہے جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
موجودہ صورتحال
سرحد پر اس تازہ خونریز تصادم کے بعد سکیورٹی کی صورتحال انتہائی حساس ہو گئی ہے۔ دونوں ممالک نے سرحد پر اپنی پوزیشنیں سنبھالنے والی فورسز کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور اضافی نفری بھی طلب کر لی گئی ہے۔ حکام کی جانب سے صورتحال کو مزید بگڑنے سے بچانے کے لیے رابطوں کی کوششیں کی جا رہی ہیں، تاہم تاحال سرحدی علاقوں میں غیر یقینی کی صورتحال برقرار ہے۔