جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے انگور اڈہ زلول خیل میں افغان اشتعال انگیزی اور فتنہ الخوارج کی دراندازی کی کوششوں پر پاک فوج نے بھرپور جوابی کاروائی کرتے ہوئے متعدد افغان پوسٹیں تباہ کر دی ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے افغان طالبان کی پوسٹوں کا سہارا لے کر پاکستانی حدود میں دراندازی کی کوشش کی، جسے سرحد پر تعینات سکیورٹی فورسز نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔ دراندازی کی کوشش میں ناکامی کے بعد افغان طالبان کی جانب سے پاکستانی حدود میں سول آبادی کو بلااشتعال نشانہ بنایا گیا۔
️ ⭕️د پاکستان-افغانستان سرحدي نښته تازه حالت 2.0
— Pak-Afghan Matters (@pakafghanmatter) April 27, 2026
هغه ویډیوګانې مخې ته راغلي چې پکې پاکستاني ځواکونه د افغان لوري پر ځینو شکمنو پوستو بریدونه ترسره کوي. دا عملیات د راپورونو له مخې له پوله هاخوا د بېپارونې ډزو وروسته ترسره شوي دي.
د امنیتي سرچینو په وینا وضعیت اوس دوهم پړاو ته… https://t.co/EIppAhBj3g pic.twitter.com/rOCzwXMP60
افغان حدود سے ہونے والی اس فائرنگ کے نتیجے میں 2 خواتین سمیت 3 شہری زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر وانا ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ پاک فوج نے جارحیت کا موثر جواب دیتے ہوئے ان تمام مقامات کو نشانہ بنایا جہاں سے فائرنگ کی جا رہی تھی، جس کے نتیجے میں سرحد پار کئی پوسٹیں تباہ ہو گئیں۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ سرحد پار سے دہشت گردوں کو فراہم کی جانے والی کسی بھی قسم کی سہولت کاری اور بلااشتعال فائرنگ کا جواب دینے کے لیے پاک فوج ہمہ وقت تیار ہے۔
علاقہ بھر میں سکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں اور صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ نیز ماہرین کے مطابق وزیرستان بھر میں سکیورٹی ادارے چوکنا ہیں اور کسی ناخشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے ملکی ادارے ہمہ وقت الرٹ ہیں۔