افغانستان کے صوبہ کنڑ میں تعلیمی ادارے پر مبینہ فضائی حملے کی خبریں سوشل میڈیا اور بعض میڈیا حلقوں میں گردش کر رہی ہیں۔ تاہم، ان دعووں کی حقیقت اور پس منظر کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ محض ایک منظم پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد خطے میں اشتعال انگیزی پیدا کرنا ہے۔
بے بنیاد الزامات
افغان اور بھارتی میڈیا کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستانی فضائیہ کے طیاروں اور ڈرونز نے کنڑ یونیورسٹی اور اس کے ہاسٹل کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا۔ ان خبروں میں گمنام اور غیر تصدیق شدہ ذرائع کا سہارا لے کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ایک تعلیمی ادارے کو نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ حقیقت میں ایسی کوئی کارروائی سرے سے عمل میں ہی نہیں آئی۔
منظم انفارمیشن آپریشن کی نشاندہی
دفاعی ماہرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق، ان جھوٹی خبروں کی اشاعت کے پیچھے ایک مربوط ‘انفارمیشن آپریشن’ کارفرما ہے۔ مبہم اور نامعلوم ذرائع کا استعمال کر کے ایک جعلی کہانی کو ساکھ فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ عالمی سطح پر پاکستان کو ایک جارح ریاست کے طور پر پیش کیا جا سکے۔ اس مہم کی ٹائمنگ اور مختلف پلیٹ فارمز سے ایک ساتھ تشہیر اس کے منظم ہونے کا واضح ثبوت ہے۔
سفارتی اور دفاعی حقائق
حقائق اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ تعلیمی ادارے پر حملے کے الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ یہ بیانیہ دانستہ طور پر عوامی غم و غصہ بھڑکانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ طالبان انتظامیہ اور مخصوص میڈیا گروپس کی جانب سے حقائق کو مسخ کرنے کی ایک ایسی کوشش ہے جس کا مقصد اپنی اندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹانا اور سرحدی کشیدگی کا غلط فائدہ اٹھانا ہے۔