بیجنگ: صدرِ پاکستان آصف علی زرداری 25 اپریل سے یکم مئی تک چین کے اہم سرکاری دورے پر ہیں، جہاں وہ چین کے مختلف خطوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے صوبہ ہونان اور ہینان کا دورہ کر رہے ہیں۔ چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لن جیان نے پیر کے روز بیجنگ میں میڈیا بریفنگ کے دوران صدر زرداری کے دورے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان کے ساتھ ہر سطح اور تمام خطوں میں دوستانہ تبادلوں اور تعاون کو فروغ دینے کے لیے مکمل تیار ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ چین اس دورے کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان ایک مشترکہ اور روشن مستقبل کے حامل قریبی پاک-چین کمیونٹی کی تعمیر کے لیے پرعزم ہے۔
صدر آصف علی زرداری کا یہ دورہ چین کے ان صوبوں پر مرکوز ہے جو صنعتی، زرعی اور تکنیکی اعتبار سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق صدر زرداری کی جانب سے ہونان اور ہینان کا انتخاب اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اب چین کے ساتھ تعاون کو صرف وفاقی سطح تک محدود نہیں رکھنا چاہتا بلکہ صوبائی اور علاقائی سطح پر بھی اشتراکِ عمل کا خواہاں ہے۔ ہونان اپنی صنعتی ترقی اور ہینان اپنے جدید تجارتی زون اور سیاحتی شعبے کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے، جہاں سے پاکستان زراعت، ٹیکنالوجی اور اقتصادیات کے شعبوں میں چینی تجربات سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے مزید واضح کیا کہ بیجنگ اسلام آباد کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے لیے کوشاں ہے تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو ان ثمرات سے براہِ راست فائدہ پہنچ سکے۔ سفارتی حلقوں میں صدر زرداری کے اس دورے کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اپنی معیشت کی بحالی کے لیے چین کے ساتھ طویل مدتی اقتصادی شراکت داری اور سی پیک کے دوسرے مرحلے میں تیزی لانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس دورے سے دونوں برادر ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور علاقائی تعاون کے نئے باب کھلنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
دیکھئیے:چین کا اپنے شہریوں کو ایران فوری چھوڑنے کا ایک اور انتباہ