باجوڑ: باجوڑ کے سرحدی علاقے لغاری میں افغان فورسز کی جانب سے داغے گئے مارٹر گولے شہری آبادی پر آ گرے، جس کے نتیجے میں اسکول کا ایک کمسن طالب علم شدید زخمی ہو گیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق افغان حدود سے فائر کیے گئے یہ گولے لغاری کے گنجان آباد علاقے میں گرے، جہاں اس وقت بچے اور عام شہری اپنی روزمرہ کی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ زخمی ہونے والے بچے کی شناخت ایک مقامی طالب علم کے طور پر ہوئی ہے، جس کے والد لغاری کے گورنمنٹ پرائمری اسکول میں درجہ چہارم کے ملازم بتائے جاتے ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گولہ باری اس قدر اچانک اور شدید تھی کہ شہریوں کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملا اور زوردار دھماکوں سے پورا علاقہ لرز اٹھا۔ زخمی طالب علم کو فوری طور پر قریبی طبی مرکز منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اس کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ سرحد پار سے بلا اشتعال فائرنگ اور مارٹر حملوں کے اس واقعے نے سرحدی دیہاتوں میں مقیم پاکستانی شہریوں میں شدید تشویش اور غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ مقامی عمائدین نے اس بزدلانہ کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی سرحدی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
Update: According to locals of Bajaur, mortar shells fired by Afghan forces targeted the civilian area of Laghari, injuring a school student. The injured child’s father is a Class-4 employee at a government primary school of Lagharai area. pic.twitter.com/V4umbywTlC
— Mahaz (@MahazOfficial1) April 27, 2026
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی فورسز نے ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم معصوم شہریوں اور خاص طور پر تعلیمی اداروں سے وابستہ افراد کو نشانہ بنانا ناقابلِ برداشت عمل ہے۔ اس واقعے کے بعد سرحد پر کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے اور پاکستانی سیکیورٹی حکام صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق افغان فورسز کی جانب سے شہری آبادیوں کو نشانہ بنانا دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات اور سرحدی انتظام کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ لغاری اور گردونواح کے مکینوں نے حکومت اور عسکری قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ سرحد پار سے ہونے والی اس اشتعال انگیزی کا مستقل سدِباب کیا جائے تاکہ معصوم جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
دیکھئیے:جنوبی وزیرستان میں افغان اشتعال انگیزی پر پاک فوج کی جوابی کاروائی، متعدد افغان پوسٹیں تباہ