حالیہ ایام میں بعض صحافتی اور سوشل میڈیا حلقوں کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ پاکستان، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے خلاف مبینہ طور پر سابق افغان اہلکاروں اور نئے پراکسی گروہوں پر مشتمل ایک ‘نیا محاذ’ تشکیل دے رہا ہے۔ تاہم سکیورٹی ماہرین کے مطابق زمینی حقائق کا جائزہ لینے کے بعد یہ بیانیے پاکستان کی موجودہ انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی کی غلط تشریح معلوم ہوتے ہیں۔
مذکورہ دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ پاکستان براہِ راست کاروائی کے بجائے ایک بالواسطہ اور ‘قابلِ تردید’ آپریشنل ماڈل اپنا رہا ہے، جس کے تحت سابق افغان لوکل پولیس (اے ایل پی) کے کمانڈرز کو استعمال کیا جا رہا ہے۔
Emerging Signals of a New Front
— BILAL SARWARY (@bsarwary) April 27, 2026
There are growing indications that elements within GHQ Rawalpindi and (ISI) is opening a new front against the Balochistan Liberation Army (BLA), with signs that this approach could extend into Afghan territory and will intersect with dynamics…
اس سلسلے میں نوشکی میں ہونے والی ایک حالیہ جھڑپ کا حوالہ بھی دیا گیا، مگر تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے واقعات دراصل 2021 کے بعد افغانستان میں پیدا ہونے والے خلا اور مسلح گروہوں کے باہمی تصادم کا شاخسانہ ہیں، نہ کہ کسی ریاستی منصوبہ بندی کا حصہ۔
رپورٹس میں ‘شباب الخراسان’ نامی ایک مبینہ نئے ڈھانچے کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے، جس کی موجودگی کی کسی بھی مستند انٹیلی جنس یا رپورٹ سے تائید نہیں ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی مکمل طور پر ادارہ جاتی اور شفاف ہے، جو کسی نئی پراکسی قوت کے بجائے اپنی ریاستی سکیورٹی فورسز کی صلاحیتوں پر یقین رکھتی ہے۔ افغانستان کے سرحدی صوبوں کنڑ، ہلمند اور نیمروز میں مسلح سرگرمیوں کا پھیلاؤ وہاں پہلے سے موجود آزاد عسکری نیٹ ورکس کی موجودگی کا نتیجہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بی ایل اے، ٹی ٹی پی اور دیگر عناصر کے درمیان روابط ایک پیچیدہ اور کثیر الجہتی عسکری ماحول کی عکاسی کرتے ہیں۔ پاکستان تسلسل کے ساتھ اس امر کی نشاندہی کرتا رہا ہے کہ دہشت گرد گروہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں، جو پاکستان کے دفاعی مؤقف کی ترجمانی ہے۔
لہٰذا منتشر عسکری سرگرمیوں کو کسی منظم پراکسی جنگ کے ‘نئے محاذ’ سے تعبیر کرنا محض پرانے مفروضوں پر مبنی ایک غلط تعبیر ہے جو خطے کے پیچیدہ سکیورٹی منظرنامے کو سمجھنے میں ناکام رہی ہے۔