ٹرائیکا کے درمیان جاری جنگ کا جب مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا گیا، تو کچھ حیران کن زمینی اسٹریٹجک نوعیت کے نتائج سامنے آئے۔ یہ جائزہ کسی کی مخالفت یا حمایت میں نہیں بلکہ اب تک کے جنگی حقائق کے تناظر میں تمام فریقوں کی کمزوریوں، کامیابیوں اور منصوبوں کا مختلف پہلوؤں سے مختصراً احاطہ کیا گیا ہے۔ اب تک جنگ کے بعد کی یہ حقیقت طشت ازبام ہو چکی ہے کہ امریکہ کی سپرمیسی کا سورج آہستہ آہستہ غروب ہونا شروع ہو گیا ہے۔ اندھی طاقت کے گھمنڈ میں مبتلا دنیا کی سپر طاقت کو اس خطے میں پانچ سال کے اندر اندر دوسری بار ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی طرح امریکہ کا بغل بچہ (اسرائیل) کا ناقابلِ شکست ہونے کا بھرم بھی ٹوٹ گیا۔ اس جنگ میں امریکہ سے جو ایک بنیادی ٹیکنیکل اسٹریٹجک غلطی ہوئی، جس کا خمیازہ وہ اب تک بھگت رہا ہے اور پوری دنیا میں جگ ہنسائی کا باعث بنتا جا رہا ہے؛ جب وہ ایران پر حملہ آور ہوا تو اس نے اسے تنہا سمجھا۔
اب فاش جنگی ٹیکنیکل غلطی ہو چکی تھی، کیونکہ اب اس کا سامنا نہ صرف ایران سے بلکہ پسِ پردہ اس کے تین طاقتور حلیفوں سے بھی تھا، جنہوں نے نہ صرف اسے بلکہ اس کے بغل بچے کو بھی ان کی جدید ترین ٹیکنالوجی و مہلک ہتھیاروں سمیت چاروں شانے چت کر دیا۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ جنگ بغیر کسی ٹھوس منصوبہ بندی کے تحت لڑی گئی یا امریکی و اسرائیلی جنگی منصوبہ بندی میں اناڑی تھے، یا پھر ان کی قیادتوں کے کچھ ذمہ داران اس جنگ کو لاحاصل سمجھتے تھے اور انہوں نے کوئی خاص دلچسپی نہیں لی۔ بہرحال کچھ تو ہے جس کی پردہ داری کی جا رہی ہے۔ آئے روز زبردستی عہدوں سے ہٹانا اور استعفے بہت کچھ سمجھا رہے ہیں۔
اس جنگ کے دوران ایک بہت ہی دلچسپ پہلو سامنے آیا۔ یو ایس، اسرائیل اور انڈین فورسز میں کوئی خاص فرق محسوس نہیں ہوا۔ غیر متزلزل عزم نہ ہونے کی وجہ سے تینوں فورسز کا میدانِ جنگ میں لڑنے کا مورال بہت کمزور ہے۔ درحقیقت تینوں ہی شکست خوردہ ہیں۔ جب بیانیے مختلف فوبیا کا شکار ہوں، تعصب، ضد اور توسیع پسندانہ عزائم کی بنیاد پر ہوں، تو فورسز دلجمعی سے نہیں لڑا کرتیں، جنگ سے جی چرانے کے بہانے ڈھونڈتی پھرتی ہیں۔ بزورِ قوت جرمن نسل کی برتری، ہندو ازم کا پرچار، کمیونزم کی بنیاد پر روس کی محنت کشوں پر طبقاتی بالادستی، امریکہ و مغرب کی تہذیب و ثقافت کے تحفظ کے نام پر جنگ و جدل، یہودیوں کا نسل پرستانہ جنون کا خواب اور اسلام کے لبادے میں خود ساختہ افکار ٹھونسنے جیسے انتہا پسندانہ بیانیے خطے و دنیا میں صرف اور صرف تباہی و بربادی اور خون ریزی لے کر آئے۔
اس کے مقابلے میں اسلام کا تصورِ جہاد (محمدی ڈاکٹرائن) بلا تفریق و امتیازِ رنگ و نسل، مذہب، خطہ، زبان، لوگوں کی جان و مال، عزت اور عقل و نسل کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ نبوی جہادی بیانیہ کا بنیادی تصور ہی عدل و انصاف کا احیاء ہے، نہ کہ دنیا کی بربادی، تباہی، بلیک میلنگ و نسل کشی۔ اسی لیے تو کہا گیا کہ نبوی جہادی بیانیہ میں زندگی رکھی گئی ہے، خیر و برکت رکھی گئی ہے۔
ٹرائیکا کے درمیان جنگ دراصل مذہبی جنونیوں، قبضہ مافیا اور سیاسی اقتدار کے حصول و مفادات کی جنگ ہے، جو اپنے ہی بے گناہ شہریوں کی لاشوں پر لڑی جا رہی ہے، لیکن اس کی قیمت پوری دنیا چکا رہی ہے، خاص کر پاکستان و امتِ مسلمہ۔ یہ ایسی جنگ ہے جس میں سویلین قیادتوں اور اداروں کے پاس فیصلہ سازی کا کوئی اختیار نہیں۔ بدقسمتی سے اس خون ریز کھیل کا ریموٹ انتہا پسندانہ و توسیع پسندانہ عزائم رکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہے، جس سے دنیا کا امن شدید خطرے سے دوچار ہو چکا ہے۔
اس جنگ میں پراکسیز کی اہمیت بھی کھل کر سامنے آئی کہ پراکسیز کی مدد سے دشمنوں کو کس طرح مشکلات سے دوچار کیا جا سکتا ہے؟ بلکہ بسا اوقات دشمن کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے اور پسپا ہونے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ خطے میں موجودہ خون ریز جنگوں کا تقاضا ہے کہ خلیجی ممالک بھی اپنی سلامتی کے لیے ایسی ہی پراکسیز کھڑی کریں، اور ساتھ ساتھ پاکستان کو بھی اپنے ازلی دشمنوں کے مقابلے میں اپنی پراکسیز کو پوری قوت سے کھڑا کرنا ہوگا۔
جنگ سے نڈھال تینوں فریقوں کے درمیان اگر کوئی جنگ بندی کا معاہدہ ہو جاتا ہے، تو جنگوں کی تاریخ کی یہ ایسی مہنگی ترین جنگ بندی ہوگی، جس میں نہ کوئی فاتح ہوگا اور نہ ہی مفتوح۔ البتہ ہر کوئی اپنی اپنی جیت کا ڈھنڈورا ضرور پیٹے گا۔ کوئی مانے یا نہ مانے پانچ ایٹمی اور ایک نان ایٹمی ریاست کے درمیان جاری جنگ، اب اعصابی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ کوئی فرنٹ میں لڑ رہا ہے اور کوئی پسِ پردہ۔ بنے گا سکندر وہی جو اپنے اعصاب پر کنٹرول رکھے گا۔
جاری ہے۔۔۔۔آرٹیکل کا اگلا حصہ جلد شائع کیا جائے گا۔