افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان کی علماء کونسل سے وابستہ جید علماء کو لاحق سکیورٹی خطرات کے پیشِ نظر اہم مساجد اور مذہبی مقامات کو ‘ہائی سکیورٹی زونز’ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ان مقامات کے اندر اور اطراف میں مسلح اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات
سکیورٹی ذرائع اور مقامی رپورٹس کے مطابق یہ سخت ترین اقدامات حالیہ عرصے میں طالبان سے منسلک اہم مذہبی شخصیات، علماء اور مقامی کمانڈرز کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات کے بعد کیے گئے ہیں۔ کابل میں جاری ٹارگٹ کلنگ اور بم حملوں کے بڑھتے ہوئے خدشات نے حکام کو ان حساس مقامات کی نگرانی سخت کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
Kabul Mosques Turn into High-Security Zones After Rising Threats Against Taliban Scholars
— Afghan Times (@AfghanTimes7) April 27, 2026
In Kabul, mosques hosting scholars linked to the Taliban’s Council of Scholars have reportedly been turned into high-security zones, with a significant deployment of armed personnel inside… pic.twitter.com/q8TAtLEqZV
مذہبی اجتماعات کی نگرانی
جمعہ کی نماز اور دیگر بڑے مذہبی اجتماعات کے موقع پر کابل کی اہم مساجد میں طالبان کے خصوصی دستوں اور سکیورٹی فورسز کی غیر معمولی موجودگی دیکھی گئی ہے۔ حکام ان اجتماعات کو سکیورٹی کے لحاظ سے انتہائی حساس قرار دے رہے ہیں، جہاں ہجوم کے باعث خودکش حملوں یا اچانک فائرنگ کا خطرہ زیادہ پایا جاتا ہے۔
کشیدہ سکیورٹی صورتحال
اگرچہ طالبان انتظامیہ کی جانب سے ان اقدامات پر کوئی تفصیلی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا، تاہم کابل کی موجودہ صورتحال سکیورٹی ماحول میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کر رہی ہے۔ سرحد پار سے ممکنہ مسلح سرگرمیوں اور داخلی عدم استحکام کے خدشات نے اب مذہبی اداروں کو بھی سخت حفاظتی حصار میں لے لیا ہے۔