پاکستان میں اے لیولز کے طلبہ ایک بار پھر تعلیمی نظام کی سنگین کوتاہی کا شکار ہو گئے ہیں جہاں ریاضی کے امتحان سے محض دو گھنٹے قبل پرچہ سوشل میڈیا پر عام ہو گیا جس نے ملک بھر کے تقریباً پچیس ہزار امیدواروں کی سال بھر کی محنت، لاکھوں روپے کی فیسوں اور ذہنی سکون کو خاک میں ملا دیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ہر طالب علم نے صرف ایک امتحان میں شرکت کے لیے ادارے کو تقریباً پچاس ہزار روپے ادا کیے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک معاشی بحران سے گزر رہا ہے، یہ تعلیمی بورڈ سالانہ تقریباً پچاس ارب روپے پاکستان سے باہر منتقل کرتا ہے لیکن اس کے باوجود یہ مسلسل تیسرا سال ہے کہ پرچے کی حفاظت یقینی بنانے میں مکمل ناکامی ہوئی ہے۔
In other news, an estimated 25000 students of Pakistan paid almost 50k to the British council to appear for A levels math exam and two hours prior to the exam the paper got leaked. Countless hours of prep, hundreds of thousands paid in tuition fees over the year, all gone to…
— M Ibrahim Jaffri (@jaffri_ibrahim) April 29, 2026
والدین اور طلبہ کا کہنا ہے کہ بھاری رقم وصول کرنے کے باوجود امتحانی مواد کی حفاظت نہ کرنا ادارے کی مجرمانہ غفلت ہے جس کا کوئی مداوا نہیں کیا جا سکتا۔ حالیہ صورتحال کے مطابق ادارے نے پرچہ لیک ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز تو کر دیا ہے اور فی الحال اس مخصوص پرچے کو منسوخ بھی کیا گیا ہے لیکن متبادل تاریخ یا نمبروں کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
اس صورتحال کی وجہ سے طلبہ میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے اور وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں صرف دوبارہ امتحان کی تاریخ نہ دی جائے بلکہ اس ذہنی اذیت کا حساب بھی دیا جائے کیونکہ ان کے یونیورسٹی داخلوں اور وظائف کا انحصار انھی نتائج پر ہوتا ہے۔ بار بار کے ان واقعات نے بین الاقوامی سطح پر پاکستانی طلبہ کی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔
دیکھئیے:کراچی کے رایان حبیب نے 15 گھنٹوں میں ’آئرن مین‘ ٹرائیتھلون مکمل کر کے تاریخ رقم کر دی