افغانستان کے صوبے ہلمند میں علما کونسل کے سربراہ مولوی محمد گل نے خواتین کی تعلیم اور ملازمت پر پابندی کے حوالے سے ایک تازہ فتویٰ جاری کیا ہے، جس میں انہوں نے ان پابندیوں کو ملک و قوم کے مفاد میں قرار دیا ہے۔ اس بیان کے بعد سماجی اور عوامی حلقوں میں بحث و مباحثے کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
علماء کونسل کے سربراہ کا موقف ہے کہ موجودہ حالات میں خواتین کا تعلیمی اداروں اور دفاتر میں جانا اسلامی اصولوں اور سماجی اقدار کے منافی ہے، لہٰذا ان سرگرمیوں پر پابندی معاشرے کی اصلاح کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ خواتین کی تعلیم دنیا میں بے راہ روی کا سبب بنتی ہے اور اس کا خاتمہ ہی افغانستان کے لیے بہتر ہے۔
واضح رہے کہ افغانستان میں خواتین پر عائد ان پابندیوں کے باعث ہزاروں طالبات کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔ وہ لڑکیاں جو ڈاکٹر، انجینئر یا استانی بننے کے خواب دیکھ رہی تھیں، اب گھروں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ کام کاج پر پابندی سے ان خاندانوں کی کمر ٹوٹ گئی ہے جن کی کفالت خواتین کے ذمے تھی، جس کے نتیجے میں ملک میں انسانی و معاشی بحران مزید سنگین ہو رہا ہے۔
طالبان حکام کے حامی ان اقدامات کو اخلاقی نظام کے تحفظ کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہیں، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں نے اس فتوے کی سخت مذمت کی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ خواتین کو بنیادی حقوق سے محروم کرنا نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ عمل افغانستان کی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ثابت ہوگا۔
طبی ماہرین نے انتباہ جاری کیا ہے کہ مسلسل سماجی تنہائی اور تعلیمی و معاشی راستوں کی بندش سے افغان خواتین میں نفسیاتی دباؤ، ناامیدی اور ذہنی تناؤ کی شرح خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان کے مستحکم مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ خواتین کی تعلیم اور سماجی شمولیت کے حوالے سے ایک متوازن اور جامع حل تلاش کیا جائے تاکہ معاشرے کا ہر طبقہ ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکے۔