ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے پاکستان کے بڑے ہوائی اڈوں پر سکیورٹی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک امریکی کمپنی کی جانب سے 2.4 ارب ڈالر کی خطیر سرمایہ کاری کی حمایت کر دی ہے۔ پاکستان میں امریکی ناظم الامور نیٹلی اے بیکر نے امریکی فرم ‘سیکیوری پورٹ’ کی اس تجویز کو سراہتے ہوئے پاکستانی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ سرحد پار خطرات اور جرائم پیشہ عناصر کی بروقت نشاندہی کے لیے اس پیشکش پر سنجیدگی سے غور کریں۔
جدید ٹیکنالوجی اور انتظام
اس منصوبے کے تحت ہوائی اڈوں پر ایڈوانسڈ پیسنجر انفارمیش اور پیسنجر نیم ریکارڈ سسٹمز نصب کیے جائیں گے۔ یہ خودکار نظام فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے زیرِ انتظام ہوں گے، جو بائیومیٹرک سہولیات کے ذریعے مسافروں کی جانچ پڑتال کریں گے۔ اہم بات یہ ہے کہ ڈیٹا کی منتقلی امریکی کمپنی کے ذریعے ہوگی، مگر تمام ریکارڈز کی مکمل ملکیت اور تحویل مستقل طور پر پاکستان کے پاس ہی رہے گی۔
مالیاتی ماڈل اور روزگار
سکیوری پورٹ نے ایک منفرد مالیاتی ماڈل پیش کیا ہے جس کے تحت کمپنی تمام ابتدائی سرمایہ کاری خود کرے گی۔ کمپنی 25 سالہ معاہدے کے دوران مسافر سیکیورٹی سرچارج کے ذریعے اپنی لاگت وصول کرے گی، جس سے حکومت پر فوری مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔ اس کے علاوہ، کمپنی پاکستان میں ایک ذیلی ادارہ قائم کرے گی جس کے ذریعے ایک ہزار سے زائد پاکستانی شہریوں کو جدید ٹیکنالوجی کی تربیت اور روزگار فراہم کیا جائے گا۔
شفافیت اور قانونی رکاوٹیں
امریکی پیشکش ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کا اپنا مقامی منصوبہ شفافیت کے خدشات کے باعث تنازعات کا شکار ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع اور ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے ای گیٹس کی خریداری میں پی پی آر اے رولز کی خلاف ورزی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ مزید برآں، آئی ایم ایف نے بھی ان قواعد پر تحفظات کا اظہار کیا ہے جو سرکاری اداروں کو براہِ راست ٹھیکے دینے کی اجازت دیتے ہیں۔
تکنیکی فوائد اور سکیورٹی
جدید ٹیکنالوجی کی تنصیب سے امیگریشن کا وقت 3 سے 5 منٹ سے کم ہو کر صرف 45 سیکنڈ رہ جائے گا۔ یہ نظام انٹرپول اور ای سی ایل کے ڈیٹا بیس سے براہِ راست منسلک ہوگا، جس سے مشتبہ مسافروں کی فوری شناخت ممکن ہو سکے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی ناگزیر ہے، تاہم بارڈر مینجمنٹ جیسے حساس معاملے میں ڈیٹا سکیورٹی اور طویل مدتی مفادات کو مدِ نظر رکھنا ضروری ہے۔