امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ڈیڑھ گھنٹے طویل ٹیلیفونک گفتگو ہوئی ہے، جس میں عالمی امن، یوکرین تنازع اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی سمیت متعدد اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ روسی خبر رساں ادارے تاس کے مطابق سال 2025 سے اب تک دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ 12واں رابطہ ہے، جو دونوں طاقتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔
جنگ بندی کی تجویز
رپورٹ کے مطابق گفتگو کے دوران یوکرین تنازع کے مستقل حل کے امکانات پر غور کیا گیا، جبکہ روس کے ‘یومِ فتح’ کے موقع پر ممکنہ جنگ بندی کی تجویز بھی زیرِ بحث آئی۔ ماہرین ان مسلسل رابطوں کو عالمی کشیدگی میں کمی اور پیچیدہ علاقائی مسائل پر دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ اس گفتگو میں ایران کی موجودہ صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
لبنان کے خلاف جنگ سے گریز
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے رابطے میں انہیں لبنان کے خلاف مکمل جنگ چھیڑنے سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ہدایت کی ہے کہ لبنان میں صرف محدود کاروائیوں تک محدود رہا جائے تاکہ خطے میں ایک بڑی اور بے قابو جنگ کے خطرے کو ٹالا جا سکے۔
ایران کی دفاعی صلاحیت
قبل ازیں امریکی خلابازوں سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اہم دعویٰ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی کاروائیوں نے ایرانی فضائیہ کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور ایران کے تقریباً 82 فیصد میزائل تباہ کر دیے گئے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق، اب ایران کے پاس نئے میزائل بنانے کی صلاحیت انتہائی محدود رہ گئی ہے، جس سے اس کی جارحانہ قوت میں نمایاں کمی آئی ہے۔