اسرائیلی فوج نے غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کے لیے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے خلاف بحیرہ روم کے بین الاقوامی پانیوں میں بڑی فوجی کاروائی کی ہے۔ غزہ سے تقریباً 600 میل دور کی جانے والی اس کاروائی میں ڈرونز، کمیونیکیشن جامنگ ٹیکنالوجی اور مسلح اہلکاروں کا استعمال کیا گیا، جس کے دوران 58 میں سے 7 امدادی کشتیوں کو یونان کے جزیرے کریٹ کے قریب قبضے میں لے لیا گیا۔
فلوٹیلا کے منتظمین اور عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی تیز رفتار فوجی کشتیوں نے بیڑے کو گھیرے میں لے کر لیزرز اور نیم خودکار ہتھیاروں کا نشانہ بنایا۔ کارکنوں کو کشتیوں کے اگلے حصے میں ہاتھ اوپر کر کے گھٹنوں کے بل بیٹھنے کے احکامات دیے گئے۔ فلوٹیلا کے ترجمان گُر تسبر نے اس اقدام کو غیر مسلح شہری کشتیوں پر کھلا حملہ اور اغواء و تشدد کی کوشش قرار دیتے ہوئے بتایا کہ 11 کشتیوں سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔
نفسیاتی حربے اور مواصلاتی تعطل
بیڑے میں موجود کارکن طارق رؤف نے انکشاف کیا کہ اسرائیلی فوج نے ریڈیو چینلز پر موسیقی چلا کر مواصلاتی نظام کو جام کر دیا، جسے انہوں نے نفسیاتی حربہ قرار دیا۔ ڈرونز کے ذریعے مسلسل نگرانی اور ریڈیو پیغامات کے ذریعے کارکنوں کو خبردار کیا جاتا رہا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بیڑے کو اسرائیلی حدود میں داخلے سے پہلے ہی روک دیا گیا ہے۔
اسرائیلی دھمکیاں
گلوبل صمود فلوٹیلا نے اسرائیلی فوج کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کی آڈیو ریکارڈنگ بھی جاری کر دی ہے۔ ریکارڈنگ میں ایک آواز قافلے والوں کو متنبہ کرتی ہے کہ غزہ کی جانب مزید پیش قدمی ان کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دے گی اور اسرائیلی فوج ناکہ بندی نافذ کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔ آڈیو میں کشتیوں کو اسرائیلی بندرگاہ ‘اشدود’ جانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
امدادی بحران
یہ فلوٹیلا 50 سے زائد کشتیوں پر مشتمل ہے جو مختلف ممالک کے کارکنوں کو لے کر اٹلی سے روانہ ہوا تھا۔ اسرائیل 2007ء سے غزہ کا محاصرہ کیے ہوئے ہے، جس کے باعث وہاں شدید انسانی بحران پیدا ہو چکا ہے۔ واضح رہے کہ 2010ء میں بھی اسی طرح کی ایک کارروائی کے دوران اسرائیلی کمانڈوز نے 10 ترک امدادی کارکنوں کو شہید کر دیا تھا، جبکہ گزشتہ برس اسی فلوٹیلا کے 450 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔