افغان طالبان کے کمانڈر عبدالحمید خراسانی نے اپنے مسلح جنگجوؤں کے ہمراہ صوبہ کنڑ پہنچنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے، جہاں وہ پاکستان کے خلاف باقاعدہ جنگ شروع کرنے کے لیے کابل قیادت کے حتمی حکم کے منتظر ہیں۔ خراسانی کا یہ بیان محض زبانی کلامی نہیں بلکہ ایک منظم جنگی پوزیشن کی عکاسی کرتا ہے، جو طالبان کے ایک ذمہ دار ریاستی قوت ہونے کے تمام دعوؤں کی نفی کرتا ہے۔
عسکریت پسندی کو ترجیح
عبد الحمید خراسانی کا یہ اعتراف کہ وہ سرحد پر حملوں کے لیے اپنی اعلیٰ قیادت سے احکامات طلب کر رہے ہیں، اس تلخ حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ طالبان قیادت گورننس کے بجائے بدستور عسکریت پسندی کو اپنی ترجیح بنائے ہوئے ہے۔ افغان سرزمین کو ایک بار پھر علاقائی تنازعات کے لانچ پیڈ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کابل انتظامیہ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر رویہ اپنانے کے بجائے ایک جارح عسکری نیٹ ورک کے طور پر کام کر رہی ہے۔
Abdul Hamid Khorasani, the Taliban commander has announced that he is in Kunar province, Afghanistan, with his forces and is awaiting orders from the Taliban leadership to begin fighting against Pakistan.
— Ahmad Sharifzad (@AhmadSharifzad) April 29, 2026
Stay tuned for more …🚨 pic.twitter.com/G1tcwMqiXC
انتہا پسند عناصر کی سرپرستی
یہ پیش رفت اس مؤقف کی تصدیق کرتی ہے کہ طالبان حکومت انتہا پسند عناصر کے خلاف کاروائی کرنے کے بجائے ان کی محافظ اور حمایتی ہیں۔ مسلح جنگجوؤں کی نقل و حرکت اور سرحد پار جارحیت کے کھلے عام اعلانات اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ افغانستان کا موجودہ ڈھانچہ تشدد، جبر اور نظریاتی انتہا پسندی پر قائم ہے، جو خطے میں عدم استحکام کو مستقل بنیادوں پر برقرار رکھنے کا باعث بن رہا ہے۔
علاقائی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ
دفاعی ماہرین کے مطابق عبدالحمید خراسانی کی جانب سے سرحد پار دشمنی کا یہ کھلا اعتراف طالبان کے اصل تشخص کو دنیا کے سامنے لاتا ہے۔ کابل انتظامیہ کا رویہ ایک ذمہ دار پڑوسی کے برعکس ایک ایسے مسلح گروہ جیسا ہے جو علاقائی امن و استحکام کو داؤ پر لگا کر عسکریت پسندی کے ذریعے اپنے اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یہ صورتحال پاک افغان سرحد پر امن و امان کے لیے ایک نیا اور سنگین چیلنج بن چکی ہے۔