متحدہ عرب امارات کی فضائی کمپنی ‘اتحاد ایئرویز’ کی جانب سے ہینگر میں کام کرنے والے 15 پاکستانی ملازمین کو اچانک ملازمتوں سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ معروف صحافی کامران یوسف کی رپورٹ کے مطابق ان ملازمین کی خدمات بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ختم کر دی گئی ہیں۔
برسوں کی خدمات اور بے دخلی کے احکامات
متاثرہ ملازمین میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے طویل عرصے تک ایئر لائن کے ساتھ کام کیا، جن میں سے ایک ملازم گزشتہ 18 سال سے اتحاد ایئرویز سے وابستہ تھا۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ متاثرہ ملازم کو امیگریشن آفس طلب کیا گیا اور وہاں اسے صرف 48 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا۔
The fallout continues.
— Kamran Yousaf (@Kamran_Yousaf) April 30, 2026
A friend just informed me that Etihad Airways has abruptly terminated the services of 15 Pakistanis working in the hangar. One of them had spent 18 years with the airline. He was summoned to the immigration office and asked to leave within 48 hours.
سخت سفارتی و انتظامی اثرات
ملازمین کی اس اچانک برطرفی اور مختصر نوٹس پر ملک سے بے دخلی کو خطے کی حالیہ صورتحال کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف ان ملازمین کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے بلکہ وہاں مقیم دیگر پاکستانی محنت کشوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ تاحال ایئر لائن انتظامیہ یا متعلقہ حکام کی جانب سے اس برطرفی کی کوئی ٹھوس تکنیکی یا انتظامی وجہ سامنے نہیں آئی ہے۔