خیبر پختونخوا کی حالیہ سیاسی صورتحال اور سرحد پار سے درپیش خطرات کے تناظر میں ماہرین اور تجزیہ کاروں نے سہیل آفریدی کے حالیہ بیانات کو حقائق سے فرار اور دہشت گردی پر سیاست قرار دے دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس قسم کا جذباتی بیانیہ صوبے میں سیاسی تسلط برقرار رکھنے کی ایک کوشش ہے، جو قومی مفاد اور سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہا ہے۔
افغان طالبان کی جارحیت
سرحدی علاقوں میں امن و امان کی ابتر صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دہشت گردی اور دراندازی کا اصل خطرہ افغان طالبان سے درپیش ہے۔ افغان طالبان کی جانب سے سرحدی علاقوں پر مارٹر گولہ باری اور دہشت گردوں کی سہولت کاری ایک تلخ حقیقت ہے، جس پر صوبائی قیادت کی خاموشی سوالیہ نشان ہے۔ وزیرستان میں سول آبادی کو نشانہ بنانے کے واقعات پر افغان طالبان کی مذمت نہ کرنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سیاسی مصلحتیں انسانی جانوں پر حاوی ہو چکی ہیں۔
ڈرون حملوں کا حقیقت پسندانہ جائزہ
سکیورٹی فورسز کے خلاف ڈرون حملوں کے الزامات کو حقائق مسخ کرنے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ڈرونز کا استعمال درحقیقت دہشت گرد کر رہے ہیں اور سییورٹی فورسز پر اس کی ذمہ داری ڈالنا دہشت گردوں کے جھوٹے بیانیے کو سپورٹ کرنے کے مترادف ہے۔ اس طرح کے بے بنیاد حقائق گھڑ کر عوام کو ریاست کے خلاف بھڑکانا کسی بھی طور ذمہ دارانہ سیاست نہیں کہلا سکتی۔
قومی اداروں کے خلاف نفرت انگیز مہم
تجزیہ کاروں نے متنبہ کیا ہے کہ کور کمانڈر ہاؤس، جی ایچ کیو اور گورنر ہاؤس جیسی مثالیں دے کر قومی اداروں کے خلاف نفرت پیدا کرنا انتہائی خطرناک عمل ہے۔ یہ رویہ نو مئی جیسے پرتشدد حملوں کے پیچھے چھپی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ قبائلی عوام، جنہوں نے دہشت گردی کی سب سے بڑی قیمت چکائی ہے، انہیں مزید اشتعال کی نہیں بلکہ امن اور استحکام کی ضرورت ہے۔
نتیجہ اور عوامی شعور
پاکستان اس وقت سفارتی اور دفاعی محاذ پر اہم کامیابیاں حاصل کر رہا ہے، ایسے میں اندرونی تقسیم پیدا کرنا ریاست دشمن عناصر کو مواد فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ افواجِ پاکستان اور قومی اداروں کو کمزور کرنے کی ہر کوشش ماضی کی طرح ناکام ہوگی، کیونکہ عوام جانتے ہیں کہ ترقی اور استحکام انتشار سے نہیں بلکہ ریاست کے ساتھ کھڑے ہونے سے آئے گا۔