امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والے تعطل کو ختم کرنے کے لیے ایک بڑے آپریشن “پروجیکٹ فریڈم” کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد خطے میں پھنسے ہوئے غیر جانبدار ممالک کے بحری جہازوں کو بحفاظت نکالنا اور عالمی تجارتی گزرگاہ کو فعال بنانا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری اپنے ایک اہم پیغام میں بتایا کہ یہ خصوصی آپریشن پیر سے باقاعدہ شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ ایک “انسانی ہمدردی پر مبنی آپریشن” شروع کر رہا ہے جس کے تحت ان بحری جہازوں کو مدد فراہم کی جائے گی جن کا موجودہ تنازعات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
غیر جانبدار ممالک کی درخواست
امریکی صدر کے مطابق کئی ایسے ممالک جن کا علاقائی تنازع سے کوئی واسطہ نہیں، انہوں نے امریکہ سے اپنے بحری جہازوں کی بحفاظت واپسی اور تجارت کے تسلسل کے لیے مدد طلب کی تھی۔ صدر ٹرمپ نے اپنے پیغام میں لکھا، “جن ممالک کا تنازع سے کوئی تعلق نہیں انہوں نے ہم سے مدد مانگی ہے، ہم انہیں محفوظ راستہ فراہم کریں گے تاکہ وہ اپنا کاروبار جاری رکھ سکیں”۔
عالمی معیشت پر اثرات
آبنائے ہرمز عالمی توانائی اور تجارت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ صدر ٹرمپ کے اس اعلان سے عالمی منڈیوں میں پھیلا ہوا تناؤ کم ہوگا اور تیل کی قیمتوں سمیت بین الاقوامی سپلائی چین میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
ریاستہائے متحدہ کی جانب سے اس آپریشن کو خالصتاً معاشی اور انسانی ہمدردی کا رنگ دیا جا رہا ہے تاکہ بین الاقوامی سمندری حدود میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنایا جا سکے۔