افغانستان کے سابق نائب صدر امراللہ صالح کی قیادت میں کام کرنے والے گروپ ‘افغان گرین ٹرینڈ’ نے ایک تشویشناک رپورٹ جاری کی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان کی ملٹری انٹیلی جنس نے کابل کے گنجان آباد علاقوں میں فوجی سازوسامان چھپانے کے حوالے سے کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کابل کے علاقے سیاہ سنگ میں واقع طالبان کی ملٹری انٹیلی جنس کے ہیڈکوارٹر نے ان افراد کو حراست میں لیا ہے جن کے پاس باغِ قاضی اور منڈیوی اراد کے قریب فوجی سازوسامان اور دہشت گرد عناصر کی منتقلی کے بارے میں معلومات تھیں۔ ان زیرِ حراست افراد کو سیاہ سنگ منتقل کر کے تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ اس بزدلانہ چھپاؤ کے حقائق کو منظرِ عام پر آنے سے روکا جا سکے۔
بطور انسانی ڈھال استعمال
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ طالبان جان بوجھ کر فوجی سازوسامان اور دہشت گرد نیٹ ورکس کو شہری معاشی مراکز اور بازاروں کے اندر چھپا رہے ہیں۔ یہ حکمتِ عملی انسانی ڈھال کے تصور کی عملی مثال ہے، جہاں شہریوں کو کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں حفاظتی رکاوٹ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام نے عام زندگی اور کابل کے مصروف بازاروں کو خطرناک جنگی زونز میں تبدیل کر دیا ہے۔
جابرانہ اقدامات
افغان گرین ٹرینڈ کا کہنا ہے کہ طالبان نہ صرف ہتھیار چھپا رہے ہیں بلکہ ان آوازوں کو بھی خاموش کر رہے ہیں جو ان کے خطرناک اقدامات کے بارے میں سچ سامنے لاتی ہیں۔ حالیہ گرفتاریاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ طالبان خود جانتے ہیں کہ ان کے اقدامات غیر قانونی اور ناقابلِ دفاع ہیں۔ یہ نظام سچ بولنے پر سزا دے کر شہریوں کے پیچھے چھپنے کو ایک معمول بنا رہا ہے، جو طالبان انتظامیہ کے اخلاقی اور انتظامی زوال کی واضح نشانی ہے۔
ممکنہ نقصانات کی ذمہ داری
تجزیہ کاروں اور افغان گرین ٹرینڈ کے مطابق اگر شہری علاقوں میں چھپائے گئے ان ہتھیاروں کی وجہ سے کوئی جانی نقصان ہوا یا ان مقامات پر کوئی کاروائی ہوئی، تو اس کی مکمل ذمہ داری براہِ راست طالبان فروسز پر عائد ہوگی۔ شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال کر اپنے نیٹ ورکس کو بچانے کی یہ کوشش ایک بزدلانہ حکمتِ عملی قرار دی جا رہی ہے۔