مددگار یا مکار؟ اپنوں کے ہاتھوں قتل کے لرزہ خیز واقعات

مددگار یا مکار؟

اپنوں کے لبادے میں چھپے قاتلوں اور خونی رشتوں کے پامال ہوتے تقدس پر ایک دردناک تحریر، جو مددگار چہروں کے پیچھے چھپے مکروہ اور سفاک کرداروں کو بے نقاب کرتی ہے۔

قومی شناخت کی نفی اور دہشت گردوں کی سرپرستی: طالبان کا نظریاتی قلعہ خطے کے لیے سنگین خطرہ قرار

طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان اس وقت ایک ایسے نظریاتی حصار میں ہے جہاں ‘نیشن اسٹیٹ’ کے تصور کو مسترد کر کے قومی شناخت مٹائی جا رہی ہے۔ دہشت گرد گروہوں کی مبینہ پشت پناہی، انسانی حقوق کی پامالی اور معاشی ناکامیوں نے کابل انتظامیہ کو عالمی تنہائی اور علاقائی انتشار کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان اس وقت ایک ایسے نظریاتی حصار میں ہے جہاں 'نیشن اسٹیٹ' کے تصور کو مسترد کر کے قومی شناخت مٹائی جا رہی ہے۔ دہشت گرد گروہوں کی مبینہ پشت پناہی، انسانی حقوق کی پامالی اور معاشی ناکامیوں نے کابل انتظامیہ کو عالمی تنہائی اور علاقائی انتشار کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

افغانستان میں انسانی حقوق کی سنگینی، بالخصوص خواتین اور اقلیتوں پر مظالم اور بڑھتی غربت نے ملک کو شدید بحران میں دھکیل دیا ہے۔ طالبان اصلاحات کے بجائے سخت نظریاتی کنٹرول کو ترجیح دے رہے ہیں، جبکہ بگڑتی سکیورٹی اور بین الاقوامی منصوبوں میں تعطل نے ملک کو مزید عالمی تنہائی اور معاشی تباہی کا شکار کر دیا ہے۔

May 4, 2026

اگست 2021 میں کابل پر طالبان کے دوبارہ قبضے کے وقت عالمی برادری کو جس “تبدیلی” اور “استحکام” کی نوید سنائی گئی تھی، چار سال بعد وہ خواب ایک بھیانک تعبیر کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ افغانستان اس وقت ایک ایسی مطلق العنان حکمرانی کی گرفت میں ہے جہاں عوامی فلاح، معاشی بقا اور علاقائی امن کو ایک مخصوص نظریاتی ہٹ دھرمی کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں قندھار سے جاری ہونے والے فرامین اور زمینی حقائق یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ کابل انتظامیہ ایک ذمہ دار ریاست بننے کے بجائے ایک ایسے “بند نظریاتی قلعے” میں تبدیل ہو رہی ہے جس کے دروازے امن، ترقی اور انسانی حقوق کے لیے مستقل بند ہوتے جا رہے ہیں۔

طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کا حالیہ حکم، جس کے تحت تمام سرکاری اداروں کے ناموں سے لفظ قومی کو حذف کر کے جنرل کر دیا گیا ہے، محض ایک انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ نیشن اسٹیٹ کے تصور سے کھلی بغاوت ہے۔ دہائیوں سے افغان تاریخ اور ثقافت کا حصہ رہنے والے لفظ قومی کا خاتمہ درحقیقت افغان عوام کی جڑوں کو کاٹنے کی وہ مذموم کوشش ہے جس کا مقصد قومیت کے بجائے ایک مخصوص انتہا پسندانہ نظام کو زبردستی مسلط کرنا ہے۔ سرحدوں اور جغرافیائی وجود کو تسلیم نہ کرنے کا یہ بیانیہ بعینہٖ داعش اور القاعدہ کے اس وژن کی عکاسی کرتا ہے جو عالمی عسکریت پسندی کو فروغ دیتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان، ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے۔

دہشت گردی کے حوالے سے کابل کا دوہرا معیار اب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں رہا۔ ایک طرف ذبیح اللہ مجاہد پاکستان پر داعش کی سرپرستی کا مضحکہ خیز الزام لگاتے ہیں، تو دوسری طرف بگرام جیل سے رہا کیے گئے سینکڑوں داعش جنگجوؤں اور فتنہ الخوارج کے 6,000 کارندوں کو افغان سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ پاک فوج کے پاس موجود ناقابلِ تردید شواہد، بشمول حملوں میں ملوث افغان خودکش بمبار اور طالبان کی نگرانی میں دہشت گردوں کی تدفین، اس گٹھ جوڑ کی دستاویزی شہادتیں ہیں۔ طالبان کی اس ہٹ دھرمی کا خمیازہ عام افغان شہری کو بھگتنا پڑ رہا ہے، جہاں سرحدی بندشوں کے باعث افغان معیشت کو یومیہ 10 لاکھ ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، لیکن کابل انتظامیہ پڑوسیوں کے گھر میں آگ لگانے والوں کی پشت پناہی کو عوامی معیشت پر ترجیح دے رہی ہے۔

اندرونی طور پر افغانستان انسانی حقوق کی پامالی اور نسلی امتیاز کا مرکز بن چکا ہے۔ ہزارہ برادری جیسی اقلیتوں پر مسلسل حملے اور ان کی سکیورٹی میں ناکامی طالبان کے “امن و امان” کے دعوؤں کا پول کھولتی ہے۔ نصف آبادی، یعنی خواتین کو تعلیم اور معیشت سے بے دخل کر کے طالبان نے ملک کو اپاہج بنا دیا ہے۔ یو این ڈی پی کے مطابق 2.69 کروڑ افغان کثیر الجہتی غربت کا شکار ہیں، جبکہ کابل کی ترجیح معاشی اصلاحات کے بجائے نجی مدارس پر پابندی لگا کر تعلیمی نظام کو مکمل ریاستی کنٹرول میں لینا ہے۔

معاشی محاذ پر بھی طالبان کی ناکامیاں عیاں ہیں۔ چین جیسی بڑی قوتیں، جن سے طالبان کو بڑی توقعات تھیں، اب سیکیورٹی خدشات اور طالبان کی سرد مہری کے باعث لوگر تانبا منصوبے جیسے بڑے پراجیکٹس سے ہاتھ کھینچ رہی ہیں۔ کابل میں چینی باشندوں پر حملے اور ان کی نقل و حرکت پر مجوزہ پابندیاں ثابت کرتی ہیں کہ طالبان ایک محفوظ سرمایہ کاری کا ماحول فراہم کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ جب تک کابل ایک ذمہ دار بین الاقوامی رکن کے طور پر خود کو پیش نہیں کرتا، اسے عالمی تنہائی اور معاشی تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔

حرفِ آخر یہ کہ طالبان حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ عوام کی مرضی کو کچلنا اور دہشت گرد گروہوں کی سہولت کاری کسی بھی نظام کو زیادہ دیر تک قائم نہیں رکھ سکتی۔ اگر کابل نے اپنی انتہا پسندانہ پالیسیوں، سرحد پار دہشت گردی کی پشت پناہی اور اپنے ہی عوام، خصوصاً خواتین اور اقلیتوں پر ظلم و ناانصافی کا سلسلہ بند نہ کیا، تو افغانستان ایک بار پھر عالمی دہشت گردی کے مرکز اور انسانی المیے کے ایسے گڑھے میں گر جائے گا جہاں سے واپسی ناممکن ہوگی۔

متعلقہ مضامین

اپنوں کے لبادے میں چھپے قاتلوں اور خونی رشتوں کے پامال ہوتے تقدس پر ایک دردناک تحریر، جو مددگار چہروں کے پیچھے چھپے مکروہ اور سفاک کرداروں کو بے نقاب کرتی ہے۔

November 4, 2026

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا ردعمل سامنے آگیا۔

November 4, 2026

نیب اور ایف آئی اے نے پاکستان پوسٹ آفس میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں پر مولانا فضل الرحمان کے بیٹے اسعد محمود کے خلاف تحقیقات تیز کر دی ہیں۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *