افغانستان گزشتہ دو دہائیوں سے مسلسل جنگ اور انسانی المیوں کا شکار رہا ہے، جہاں “جہاد” کے نام پر ہونے والی کاروائیوں نے عام شہریوں، بالخصوص خواتین کی زندگیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ آج اگرچہ طالبان اقتدار میں ہیں، لیکن افغان خواتین کے لیے یہ تبدیلی کسی خوشخبری کے بجائے غیر یقینی مستقبل اور سخت پابندیوں کا پیغام لے کر آئی ہے۔ وہ خواتین جو ماضی میں تعلیم اور روزگار کے میدان میں ترقی کر رہی تھیں، آج گھروں میں محصور ہو کر رہ گئی ہیں۔
ایک متاثرہ لڑکی کی آپ بیتی
ایچ ٹی این سے گفتگو کرتے ہوئے ایک افغان لڑکی نے اپنی زندگی کے کربناک باب سے پردہ اٹھایا۔ اس نے بتایا کہ جب وہ چھوٹی تھی، تو طالبان نے اس کے اسکول پر بزدلانہ حملہ کیا، جس میں وہ شدید زخمی ہوئی۔ اس کے سر پر گہری چوٹیں آئیں اور ڈاکٹروں نے اس کے بچنے کی امید توڑ دی تھی۔ اس نے کہا، “ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ میں شاید زندہ نہ رہوں یا عمر بھر کے لیے معذور ہو جاؤں، لیکن دو بڑے آپریشنز کے بعد مجھے نئی زندگی ملی۔”
جسمانی صحتیابی اور نفسیاتی کرب
اگرچہ وہ لڑکی جسمانی طور پر اب بہتر ہے، لیکن اس حملے کے اثرات آج بھی اس کی زندگی کا پیچھا کر رہے ہیں۔ اسے سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہے اور وہ شدید نفسیاتی دباؤ کا شکار ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ “پہلے طالبان ہمیں بم دھماکوں اور حملوں کے ذریعے نشانہ بناتے تھے، اور اب اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے قانون کے نام پر ہماری تعلیم، کام اور آزادی چھین لی ہے۔” اس نے بتایا کہ اس جیسی ہزاروں لڑکیاں اس تشدد کا شکار ہوئیں، جن میں سے کئی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔
تعلیمی بندش اور تاریک مستقبل
موجودہ حالات میں افغانستان دنیا کا وہ واحد ملک بن چکا ہے جہاں تقریباً 50 لاکھ لڑکیاں اسکول جانے سے محروم ہیں۔ طالبان کی جانب سے خواتین کے بنیادی انسانی حقوق کی مسلسل پامالی نے عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے سالوں میں افغانستان شدید تعلیمی بحران اور جہالت کے اندھیروں میں ڈوب جائے گا، جس کے اثرات ملک کے صحت اور سماجی ڈھانچے پر بھی مرتب ہوں گے۔
عالمی برادری کا کردار اور نتیجہ
عالمی برادری نے بارہا طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لڑکیوں کے لیے اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے دروازے کھولیں، لیکن ان مطالبات کے جواب میں اب تک مزید سختیاں ہی دیکھنے میں آئی ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف افغان خواتین کے مستقبل کو داؤ پر لگا رہی ہے بلکہ پورے خطے کے استحکام اور ترقی پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کر رہی ہے۔ جب تک افغان خواتین کو ان کے جائز حقوق نہیں ملتے، افغانستان کی سماجی و معاشی ترقی ایک خواب ہی رہے گی۔