پکتیا کے سابق گورنر محمد حلیم فدائی نے افغانستان کے موجودہ سیاسی نظام پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ایک ایسی جامع اور ہمہ گیر حکومت کا مطالبہ کیا ہے جو کسی خاص نسل یا گروہ تک محدود نہ ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک کا استحکام صرف اس صورت میں ممکن ہے جب حکومت صرف پشتونوں یا ملاؤں کی نمائندگی کے بجائے تمام افغانیوں کی ترجمان ہو۔ ان کے اس بیان نے طالبان کے اس ڈھانچے کو ایک بار پھر عالمی بحث کا مرکز بنا دیا ہے جس پر طویل عرصے سے نسلی اجارہ داری کے الزامات عائد ہیں۔
دستیاب اعداد و شمار طالبان کے دعوؤں اور زمینی حقائق کے درمیان ایک گہری خلیج کو واضح کرتے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان کی تقریباً 55 سے 58 فیصد غیر پشتون آبادی کو اقتدار کے ایوانوں میں نمائندگی سے تقریباً محروم رکھا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان کی اعلیٰ قیادت کا 85 سے 95 فیصد حصہ صرف ایک مخصوص نسلی گروہ یعنی پشتونوں پر مشتمل ہے، جبکہ تمام اہم وزارتوں اور کلیدی سرکاری عہدوں کے 85 فیصد سے زائد منصبوں پر بھی اسی گروہ کا قبضہ برقرار ہے۔ نسلی عدم توازن کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ طالبان کی 49 رکنی کابینہ میں غیر پشتونوں کی شمولیت آٹے میں نمک کے برابر ہے، جس میں محض 2 تاجک، 2 ازبک، 2 بلوچ اور صرف 1 نورستانی شامل کیا گیا ہے، جو کہ ملک کی کثیر النسلی شناخت کی عکاسی کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔
ہزارہ برادری اور خواتین کی عدم نمائندگی
سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ افغانستان کی اہم ترین اکائی ‘ہزارہ برادری’ اور ملک کی نصف آبادی یعنی ‘خواتین’ کی طالبان کابینہ میں نمائندگی صفر ہے۔ ماہرینِ سیاسیات کا کہنا ہے کہ یہ طرزِ عمل نہ صرف انسانی حقوق کی پامالی ہے بلکہ یہ ایک ایسے سیاسی عدم استحکام کو جنم دے رہا ہے جو مستقبل میں کسی بڑے داخلی بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
قندھار مرکزیت اور گورننس کے مسائل
تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ افغان نظام درحقیقت قندھار سے کنٹرول ہونے والا ایک ایسا مرکزی ڈھانچہ ہے جو زمینی حقائق اور عوامی ضرورتوں سے مکمل طور پر کٹا ہوا ہے۔ یہ نظام بہتر گورننس اور عوامی فلاح کے بجائے نسلی اور نظریاتی غلبے کو ترجیح دے رہا ہے۔ حلیم فدائی جیسے تجربہ کار سیاستدانوں کی آوازیں اس بات کی علامت ہیں کہ طالبان کے اس اخراجی نظام کے خلاف اب خود افغانستان کے اندر سے بھی ردِعمل سامنے آنے لگا ہے۔
عالمی برادری کا موقف اور مستقبل
عالمی برادری نے پہلے دن سے طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے ‘انکلوسیو گورنمنٹ’ (ہمہ گیر حکومت) کی شرط رکھی ہے۔ تاہم، طالبان قیادت کی جانب سے نسلی اور گروہی اجارہ داری پر اصرار نے افغانستان کو سفارتی تنہائی کا شکار کر دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک افغانستان میں تمام قومیتوں اور طبقات کو اقتدار میں برابر کا حصہ نہیں دیا جاتا، پائیدار امن اور ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔