اسلام آباد: ماہرِ افغان امور سیف اللہ خالد نے انکشاف کیا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ اب محض ایک پناہ گزین یا مہمان تنظیم نہیں رہی، بلکہ موجودہ افغان حکومت میں باقاعدہ طور پر شریک اور سٹیک ہولڈر بن چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت میں القاعدہ کا اثر و رسوخ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ کئی اہم گورنرز، پولیس چیف اور انٹیلیجنس کے اعلیٰ عہدیدار براہِ راست القاعدہ کی شوریٰ سے تعلق رکھتے ہیں۔
افغان طالبان کا عالمی دہشت گرد گروہوں کے ساتھ گٹھ جوڑ اب ڈھکی چھپی بات نہیں بلکہ زبان زد عام کہانی ہے۔ القاعدہ اور داعش کی شوریٰ کے کئی ممبران طالبان کابینہ کا حصہ ہیں یا کسی صوبے کے گورنر ہیں۔ یہ تمام تنظیمیں طالبان کی سرپرستی میں دنیا دہشت کا کاروبار کرتی نظر آتی ہیں۔
— HTN Urdu (@htnurdu) May 4, 2026
ماہر… pic.twitter.com/P2NfWSfEMJ
القاعدہ اب ایک سٹیک ہولڈر ہے
سیف اللہ نے ایچ ٹی این سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ملا عمر کے دور میں القاعدہ کو صرف ایک پناہ گزین تنظیم کی حیثیت حاصل تھی، جس کا افغان حکومت کے روزمرہ کے انتظامی اور حکومتی امور میں کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ تاہم، موجودہ ہیبت اللہ کی حکومت میں القاعدہ باقاعدہ طور پر حکومتی نظام میں شامل ہو چکی ہے، جو کہ خطے کے امن اور سکیورٹی کے لیے ایک انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔
کلیدی عہدوں پر القاعدہ کے ارکان
سیف اللہ خالد نے ثبوت کے طور پر اہم شخصیات کی نشاندہی کی ہے جو بیک وقت طالبان حکومت اور القاعدہ کی شوریٰ کا حصہ ہیں۔ اس سلسلے میں قاری بریال طالبان کی جانب سے صوبائی گورنر کے عہدے پر فائز ہیں، جبکہ وہ القاعدہ کی شوریٰ کے بھی اہم ممبر ہیں۔
اس کے علاوہ، مولوی عبدالاحد طالب جو ہلمند کے موجودہ صوبائی گورنر ہیں، ان کا تعلق بھی القاعدہ کی صفوں سے بتایا جاتا ہے۔ تاج میر جواد کے تانے بانے بھی القاعدہ سے ملتے ہیں۔ وہ افغانستان کی انٹیلیجنس ایجنسی جی ڈی آئی کے سربراہ ہیں۔ ظاہری طور پر وہ ڈپٹی چیف ہیں لیکن عملاً تمام اختیارات انہی کے پاس ہیں۔
ایک انتہائی اہم انکشاف حکیم آغا کے بارے میں سامنے آیا ہے جو کہ صوبائی گورنر کے عہدے پر فائز ہیں۔ وہ عرب نژاد ہیں اور نوجوانی میں اسامہ بن لادن کے ساتھ منسلک تھے۔ افغانستان میں دو شادیاں کرنے کے بعد وہ یہیں رچ بس گئے اور 2001 کے بعد افغان شہریت حاصل کر لی تھی۔
خطے کے لیے تشویشناک صورتحال
ماہرین کا ماننا ہے کہ ان افراد کا طالبان کی سرپرستی میں اہم عہدوں پر براجمان ہونا، ریاستی پالیسی سازی پر القاعدہ کے اثر و رسوخ کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف خطے کی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہے بلکہ بین الاقوامی برادری کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
دیکھئیے:طالبان ٹی ٹی پی گٹھ جوڑ: افغان معیشت اور سکیورٹی بحران