افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے استحکام اور امن کے جو بلند و بانگ دعوے کیے جا رہے تھے، وہ اب بین الاقوامی شواہد اور زمینی حقائق کے بوجھ تلے دم توڑتے نظر آ رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ 2021 کے بعد سے طالبان حکومت ایک ذمہ دار ریاستی کردار ادا کرنے کے بجائے محض ایک نظریاتی منصوبے پر عمل پیرا ہے، یہ منصوبہ نہ صرف تحریکِ طالبان پاکستان جیسے شدت پسند نیٹ ورکس کو تحفظ فراہم کر رہا ہے بلکہ افغان معیشت کو عالمی تنہائی کی اس جانب دھکیل رہا ہے جس کا بوجھ براہِ راست افغان عوام کو اپنی زندگیوں اور معاشی تباہی کی صورت میں اٹھانا پڑ رہا ہے۔ یہ سب متعدد وجوہات کی بناء پر ہے: جن میںسیاسی جواز کا فقدان، سکیورٹی کی بدحالی اور عوامی فلاح و بہبود کی مکمل عدم موجودگی
ٹی ٹی پی اور افغان سرزمین
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم نے طالبان کے ان دعوؤں کو “ناقابلِ اعتبار” قرار دیا ہے کہ افغانستان میں کوئی دہشت گرد گروہ موجود نہیں۔ عالمی رپورٹس کے مطابق افغانستان کے مختلف صوبوں میں ٹی ٹی پی کے تقریباً 6,000 جنگجو موجود ہیں، جنہیں طالبان کی مکمل معاونت اور سہولت کاری حاصل ہے پاکستان پر 2025 میں ہونے والے 600 سے زائد حملے اسی گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہیں۔
اس گٹھ جوڑ کی سب سے بڑی دلیل حال ہی میں افغانستان میں ہونے والا وہ واقعہ ہے جہاں طالبان کی باقاعدہ نگرانی میں فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کی تدفین کی گئی، جس نے ثابت کر دیا کہ یہ گروہ اور طالبان ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ واضح رہے کہ طالبان کی ٹی ٹی پی کے ساتھ یہ نظریاتی وابستگی خود افغان عوام کے لیے معاشی زہر ثابت ہو رہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق سرحدی کشیدگی اور بندشوں کے باعث افغان معیشت کو یومیہ 10 لاکھ ڈالر کا نقصان پہنچ رہا ہے۔
گٹھ جوڑ کی ایک دستاویزی شہادت
افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے مابین اس گٹھ جوڑ کی سب سے واضح مثال جامعہ الرشید کے مفتی عبدالرحیم صاحب کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ ہے۔ دو سال قبل جب استاد صاحب نے افغانستان میں موجود جید افغان علماء کو پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے خلاف ایک اجتماعی گرینڈ فتویٰ جاری کرنے پر راضی کر لیا، تو طالبان حکومت خوفزدہ ہو گئی۔ملا ہیبت اللہ کو خدشہ ہوا کہ اگر ایک ہزار افغان علماء نے ان دہشت گردوں کے خلاف فتویٰ دے دیا تو وہ کھل کر ان کی حمایت نہیں کر سکیں گے۔ پھر کچھ ایسا ہوا کہ مفتی عبدالرحیم صاحب کو فوری طور پر ڈی پورٹ کر دیا گیا، یہاں تک کہ انہیں اپنا سامان تک سمیٹنے کی مہلت نہ دی گئی۔ یہ واقعہ اس تلخ حقیقت کا عکاس ہے کہ طالبان قیادت کے لیے پاکستان کی ریاست کے ساتھ مخلص ہونا تو دور کی بات، وہ اپنے ہم نوالہ و پیالہ علماء کی رائے پر دہشت گردوں کے تحفظ کو ترجیح دیتے ہیں۔
معیشت اور انسانی المیہ
طالبان کی معاشی ترقی کے دعوؤں کی حقیقت ورلڈ بینک کے ان اعداد و شمار سے عیاں ہے کہ اگرچہ جی ڈی پی میں 4.3 فیصد اضافے کی توقع ہے، لیکن آبادی میں 8.6 فیصد کے تیز رفتار اضافے کے باعث فی کس آمدنی میں 4 فیصد کمی واقع ہو رہی ہے۔ یعنی معیشت صرف کاغذوں پر بڑھ رہی ہے، جبکہ ہر افغان شہری کا حصہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ یو این ڈی پی کے مطابق تقریباً 2.69 کروڑ افغان کثیرالجہتی غربت کا شکار ہیں، اور ملک کی 40 فیصد سے زائد آمدنی اب بھی غیر ملکی امداد پر منحصر ہے。 ریاست کے بجائے یہ “امداد پر چلنے والی بقا کی معیشت” بن چکی ہے۔
خواتین کی معاشی بے دخلی
طالبان نے ملک کی نصف آبادی یعنی خواتین کو معیشت سے باہر کر دیا ہے، جس کے دور رس منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ صرف 7 فیصد خواتین کا ملازمت کرنا اور لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی اس بات کی ضمانت ہے کہ افغانستان کبھی بھی اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہو سکے گا。 خواتین نرسوں اور امدادی کارکنوں پر پابندی نے انسانی امداد کے نظام کو بھی مفلوج کر دیا ہے، جس سے براہِ راست خواتین اور بچے متاثر ہو رہے ہیں۔
قندھار کی مطلق العنانی
اقوام متحدہ کی رپورٹ واضح کرتی ہے کہ طالبان قیادت عوامی رضامندی کے تصور کو ہی رد کرتی ہے۔ ملاہیبت اللہ اخوندزادہ ایک ایسے مطلق العنان حکمران کے طور پر ابھرے ہیں جو قندھار میں بیٹھ کر مذہبی بنیادوں پر وہ فیصلے کرتے ہیں جن پر خود طالبان کے اندر اٹھنے والی اختلافی آوازوں کو جلاوطنی یا حراست کے ذریعے دبا دیا جاتا ہے۔
حرفِ آخر: طالبان حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی اور آدھی آبادی کو گھروں میں قید کر کے وہ دنیا میں کبھی بھی قانونی جواز حاصل نہیں کر سکیں گے。 جب تک کابل اپنی عالمی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کرتا اور ٹی ٹی پی کے خلاف عملی کارروائی نہیں کرتا، افغان عوام اس نظریاتی ہٹ دھرمی کی “انسانی قیمت” چکاتے رہیں گے。 پاکستان کے لیے بھی یہ سبق واضح ہے کہ اپنی ریاست کی وفاداری اور مخلصی ہی اصل راستہ ہے، نہ کہ ان قوتوں کے “ٹاوٹ” بننا جو اپنے پڑوسی کے گھر میں آگ لگانے والوں کو پناہ دے رہے ہیں