مستقل ثالثی عدالت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے سے متعلق سپلیمنٹل ایوارڈ پر بھارت کی جانب سے مکمل لاتعلقی اور مسلسل عدم تعمیل نے بین الاقوامی قوانین اور تنازعات کے حل کے طریقہ کار کی ساکھ پر گہرے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ بھارت کا 29 جنوری 2026 کو جاری ہونے والے طریقہ کار کے حکم نامے کو تسلیم کرنے سے انکار اور 9 فروری 2026 کی ڈیڈ لائن کے باوجود بگلیہار اور کشن گنگا پن بجلی منصوبوں کا آپریشنل ڈیٹا فراہم نہ کرنا، کھلم کھلا خلاف ورزی اور عالمی قواعد و ضوابط سے انحراف کی ایک خطرناک روش کو ظاہر کرتا ہے۔
بھارت کا یہ رویہ نہ صرف ثالثی کے عمل میں رکاوٹ کا باعث ہے بلکہ یہ بین الاقوامی جوابدہی اور شفافیت کے مسلمہ اصولوں کی بھی توہین ہے۔ ان اقدامات کے ذریعے بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو عملی طور پر معطل کرنے کی کوشش کی ہے، جو بین الاقوامی معاہدوں کے نفاذ اور ان کی قانونی حیثیت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ اس طرزِ عمل سے بین الاقوامی سطح پر پانی کی تقسیم اور ماحولیاتی گورننس کے نظام میں غیر یقینی اور عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے۔
اس کے برعکس، پاکستان نے ہمیشہ ثالثی کے عمل میں بھرپور حصہ لیا ہے، قانونی ضوابط کی پابندی کی ہے، اور بین الاقوامی تقاضوں پر مثبت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ دونوں ممالک کے رویوں میں یہ واضح تضاد اس بات کو عیاں کرتا ہے کہ پاکستان قانونی اصولوں پر کاربند ہے، جبکہ بھارت کی یکطرفہ خاموشی اور عدم تعمیل ایک خطرناک نظیر قائم کر رہی ہے جو علاقائی آبی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہے۔
بگلیہار اور کشن گنگا منصوبوں پر ڈیٹا فراہم نہ کرنے کا یہ اقدام اس بات کا غماز ہے کہ بھارت کسی بھی بیرونی قانونی اور ثالثی کے عمل کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہے۔ یہ صورتحال عالمی برادری کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے کہ وہ دوطرفہ معاہدوں کی پاسداری نہ کرنے والی ریاستوں کے طرزِ عمل کو کس طرح دیکھے اور بین الاقوامی قوانین کی بالادستی کو کیسے یقینی بنائے۔
دیکھئیے:بھارت افغانستان کی سرزمین استعمال کر کے پاکستان کے خلاف پراکسی وار کر رہا ہے: خواجہ آصف