وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ ذاتی اور سیاسی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر قومی سلامتی اور مفادات کو سب سے زیادہ ترجیح دی جائے۔ کسی بھی اندرونی یا بیرونی سازش کا مقابلہ کرنے کے لیے قوم اور اداروں کا ایک پیج پر ہونا انتہائی ناگزیر ہے۔

May 3, 2026

طالبان حکومت 2021 سے ایک ذمہ دار ریاستی کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے، جہاں تحریکِ طالبان پاکستان جیسے گروہوں کو تحفظ فراہم کرنے کی نظریاتی ہٹ دھرمی نے افغان عوام کو شدید معاشی تباہی اور عالمی تنہائی کا شکار کر دیا ہے۔

May 3, 2026

شاہراہِ دستور پر واقع ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کیس میں ریاست نے 14 ارب کے نادہندگان کے خلاف کاروائی کر کے واضح کیا کہ قانون اب اشرافیہ اور عام شہری کے لیے یکساں ہے۔

May 3, 2026

موجودہ دور میں جہاں معلومات کی ترسیل پہلے سے کہیں زیادہ تیز ہو چکی ہے وہیں جھوٹی خبروں، منفی پروپیگنڈے اور مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال جیسے چیلنجز بھی شدت اختیار کر چکے ہیں۔ ایسے میں صحافیوں پر ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ تحقیق، تصدیق اور غیر جانبداری کو اپنا شعار بنائیں۔

May 3, 2026

عالمی یومِ آزادیٔ صحافت ہمیں یہ سوچنے، سمجھنے پر بھی مجبور کرتا ہے کہ آزادی اور ذمہ داری ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ اگر آزادی کو ذمہ داری کے بغیر استعمال کیا جائے تو یہ انتشار کا سبب بن سکتی ہے جبکہ ذمہ داری کے ساتھ جڑی آزادی معاشرے میں توازن، شعور اور انصاف کو فروغ دیتی ہے۔

May 3, 2026

مارچ 2011 سے اگست 2025 تک لاپتہ افراد کے تقریباً 10,618 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے ریاست 8,800 سے زائد کیسز کو نمٹا چکی ہے اور 6,800 سے زائد افراد کو ٹریس بھی کیا جا چکا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ریاستی ادارے اس پیچیدہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں

May 3, 2026

بھارت افغانستان کی سرزمین استعمال کر کے پاکستان کے خلاف پراکسی وار کر رہا ہے: خواجہ آصف

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ ذاتی اور سیاسی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر قومی سلامتی اور مفادات کو سب سے زیادہ ترجیح دی جائے۔ کسی بھی اندرونی یا بیرونی سازش کا مقابلہ کرنے کے لیے قوم اور اداروں کا ایک پیج پر ہونا انتہائی ناگزیر ہے۔
خواجہ آصف کا بیان

خواجہ آصف نے واضح کیا کہ پاکستانی اور افغان طالبان کو بھارت کی مکمل سرپرستی حاصل ہے، جس کا مقصد پاکستان میں بدامنی پھیلانا اور ریاستی اداروں کو کمزور کرنا ہے۔

May 3, 2026

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے نجی ادارے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف پراکسی وار کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کے لیے پاکستان مخالف عناصر کو بیرونی قوتوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔

خواجہ آصف نے واضح کیا کہ پاکستانی اور افغان طالبان کو بھارت کی مکمل سرپرستی حاصل ہے، جس کا مقصد پاکستان میں بدامنی پھیلانا اور ریاستی اداروں کو کمزور کرنا ہے۔ انہوں نے ہمسایہ ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین کا استعمال پاکستان کے خلاف ہونے سے روکیں۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ ذاتی اور سیاسی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر قومی سلامتی اور مفادات کو سب سے زیادہ ترجیح دی جائے۔ کسی بھی اندرونی یا بیرونی سازش کا مقابلہ کرنے کے لیے قوم اور اداروں کا ایک پیج پر ہونا انتہائی ناگزیر ہے۔

خواجہ آصف نے پاک فوج کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج نے ماضی میں بھی بھارت کو شکست دے کر اس کا غرور مٹی میں ملایا تھا۔ انہوں نے پراعتماد انداز میں کہا کہ بھارت اب دوبارہ پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے یا براہ راست حملہ کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کا خواہاں ہے اور ایک اچھے ہمسائے کی طرح تمام ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات کا حامی ہے۔ تاہم، ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ہر قسم کی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

دیکھئیے:آزادیٔ صحافت اور صحافیوں کی قربانیاں

متعلقہ مضامین

طالبان حکومت 2021 سے ایک ذمہ دار ریاستی کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے، جہاں تحریکِ طالبان پاکستان جیسے گروہوں کو تحفظ فراہم کرنے کی نظریاتی ہٹ دھرمی نے افغان عوام کو شدید معاشی تباہی اور عالمی تنہائی کا شکار کر دیا ہے۔

May 3, 2026

شاہراہِ دستور پر واقع ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کیس میں ریاست نے 14 ارب کے نادہندگان کے خلاف کاروائی کر کے واضح کیا کہ قانون اب اشرافیہ اور عام شہری کے لیے یکساں ہے۔

May 3, 2026

موجودہ دور میں جہاں معلومات کی ترسیل پہلے سے کہیں زیادہ تیز ہو چکی ہے وہیں جھوٹی خبروں، منفی پروپیگنڈے اور مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال جیسے چیلنجز بھی شدت اختیار کر چکے ہیں۔ ایسے میں صحافیوں پر ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ تحقیق، تصدیق اور غیر جانبداری کو اپنا شعار بنائیں۔

May 3, 2026

عالمی یومِ آزادیٔ صحافت ہمیں یہ سوچنے، سمجھنے پر بھی مجبور کرتا ہے کہ آزادی اور ذمہ داری ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ اگر آزادی کو ذمہ داری کے بغیر استعمال کیا جائے تو یہ انتشار کا سبب بن سکتی ہے جبکہ ذمہ داری کے ساتھ جڑی آزادی معاشرے میں توازن، شعور اور انصاف کو فروغ دیتی ہے۔

May 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *