چند روز قبل میں نے شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کے حوالے سے ایک مضمون تحریر کیا تھا، جس میں ان کے خلاف سوشل میڈیا پر جاری منفی مہمات پر گہری افسوس کا اظہار کیا گیا تھا۔ افسوس کہ آج وہی اندیشے حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں، اور علم و حدیث کی خدمت میں مصروف ایک عظیم شخصیت کو ظلم و بربریت کا نشانہ بنا کر شہید کر دیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق منگل کی صبح خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ کے علاقے اتمانزئی میں نامعلوم افراد نے مولانا محمد ادریس کو شہید کر دیا۔ ان کا جرم کیا تھا؟ اب تک کتنے ان علماء کے قاتل گرفتار کیے گئے ہیں جو شہید کیے گئے؟ کیا مولانا صاحب کے قاتل پکڑے جائیں گے؟ ان کی شہادت صرف ایک عالم کا قتل نہیں بلکہ انسانیت، پاکستان، اسلامی نظریے اور فکری اعتدال پر ایک سنگین حملہ ہے۔ وہ لوگ جو علماء سے نفرت کرتے ہیں، نفرت پھیلاتے ہیں اور اس ملک کو انتشار کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں، شاید آج خوش ہوں گے کہ ان کی نظر کا ایک کانٹا نکل گیا۔ اسی طرح (اللہ نہ کرے) مزید قتل و غارت کی راہیں بھی ہموار کی جا رہی ہیں۔ مولانا صاحب کے قتل میں وہی ہاتھ ملوث ہیں جنہوں نے پہلے ان کے خلاف سوشل میڈیا پر مذاق اڑایا اور گالم گلوچ کی۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ بعد میں خود کو بری الذمہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ لوگ نہ اسلام کے خیر خواہ ہیں نہ پاکستان کے، بلکہ نفرت کو ہوا دینے والے ہیں۔ حالیہ دنوں میں مولانا صاحب نے پاکستان کے اس کردار کو سراہا تھا جس میں ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششوں کا ذکر کیا گیا تھا، اور یہی بات بعض شدت پسند عناصر کو ناگوار گزری۔
سوشل میڈیا پر پہلے ہی مولانا صاحب کے خلاف ایک منظم مہم جاری تھی، جس میں توہین آمیز زبان، جھوٹے الزامات اور کردار کشی کے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے تھے۔ بدقسمتی سے یہی نفرت انگیز ماحول اکثر حقیقی دنیا میں تشدد کا پیش خیمہ بن جاتا ہے، اور آج ہم نے اس کا ایک اور المناک نتیجہ دیکھ لیا۔
یہ پہلا واقعہ نہیں کہ کسی دینی عالم کو نشانہ بنایا گیا ہو۔ پاکستان، خصوصاً خیبر پختونخوا، کئی دہائیوں سے ایسے سانحات سے دوچار ہے۔ علماء کرام ہمیشہ سے معاشرے کی فکری، روحانی اور اخلاقی رہنمائی کا ذریعہ رہے ہیں، مگر بدقسمتی سے یہی طبقہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کا نشانہ بھی بنتا رہا ہے۔
اگر ماضی پر نظر ڈالی جائے تو متعدد جید علماء نے اس راہ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ کراچی کے معروف عالم مفتی نظام الدین شامزئی 2004 میں شہید کر دیے گئے۔ اسی طرح پشاور کے ممتاز عالم مولانا حسن جان 2007 میں دہشت گردی کا نشانہ بنے۔ خیبر پختونخوا میں متعدد دیگر علماء، مساجد کے خطباء اور مدرسین بھی مختلف اوقات میں شہید کیے گئے، جن کا جرم صرف دین کی تعلیم دینا اور معاشرے کی اصلاح کی بات کرنا تھا۔
اسی تسلسل میں حالیہ برسوں میں بھی مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے کئی علماء کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ بات واضح کرتی ہے کہ دہشت گردی کسی ایک گروہ یا نظریے تک محدود نہیں بلکہ یہ پورے معاشرے کے امن اور استحکام کے خلاف ایک جنگ ہے۔
علماء کرام کا مقام عام افراد سے بلند ہوتا ہے۔ وہ نہ صرف علم حاصل کرتے ہیں بلکہ اسے آگے منتقل کرتے ہیں، نئی نسل کی تربیت کرتے ہیں اور معاشرے کو فکری بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ ایک عالم کی شہادت دراصل ایک علمی چراغ کے بجھ جانے کے مترادف ہوتی ہے، جس کی روشنی سے بے شمار لوگ مستفید ہوتے ہیں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اس پہلو پر غور کریں کہ آخر ایسا ماحول کیوں پیدا ہوتا ہے جس میں علماء کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ عدم برداشت، فرقہ واریت اور سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی نفرت انگیز مہمات ہیں۔ جب کسی شخصیت کے خلاف مسلسل زہر اگلا جائے تو بعض کم فہم افراد اس سے متاثر ہو کر انتہا پسندی کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔
ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے واقعات کی مکمل تحقیقات کریں اور ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لائیں۔ ساتھ ہی سوشل میڈیا پر نفرت پھیلانے والوں کے خلاف بھی مؤثر کارروائی ضروری ہے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔
معاشرے کے ہر فرد کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ ہمیں اختلاف رائے برداشت کرنا سیکھنا ہوگا اور کسی بھی شخصیت کے خلاف بغیر تحقیق کے منفی مہم کا حصہ بننے سے گریز کرنا ہوگا۔ علماء کرام کا احترام اور ان کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کی شہادت ایک بہت بڑا سانحہ ہے۔ ان کی علمی خدمات، تدریسی انداز اور دین کے ساتھ ان کی وابستگی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ ان کی شہادت ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ علم کا چراغ کبھی بجھ نہیں سکتا بلکہ یہ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل ہوتا رہتا ہے۔
مولانا صاحب کی وفات کی تحقیقات فوری طور پر کی جانی چاہئیں اور جلد از جلد ان ظالموں کو بے نقاب کر کے قانون کے مطابق سزا دی جانی چاہیے۔ تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
ایسا نہ ہو کہ کل پھر ملک میں یہی ماحول پیدا ہو اور یہی مدرسین اور اہلِ علم لوگ ردعمل میں کسی بڑے تصادم کی طرف نہ چلے جائیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ شہید مولانا محمد ادریس کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور تمام علماء کرام کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ آمین۔