مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی جیو پولیٹکس میں ایک بڑی ہلچل محسوس کی جا رہی ہے جہاں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ابھرتے ہوئے نئے اتحاد نے عالمی طاقتوں کو حیران کر دیا ہے۔ اس تزویراتی بلاک کی تشکیل نے خاص طور پر بھارت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، جس کے بعد خطے میں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہوتا نظر آ رہا ہے۔
بھارت کی اظہارِ تشویش
بھارتی فوج کی 15 ویں کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھئی نے اس نئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ترکی کو ایک “نیا ممکنہ حریف” قرار دے دیا ہے۔ بھارتی عسکری حکام کے مطابق انقرہ۔ اسلام آباد۔ بیجنگ کا ابھار نئی دہلی کے لیے اسٹریٹجک چیلنجز پیدا کر رہا ہے۔ بھارت نے باضابطہ طور پر اس سہ فریقی تعاون کو اپنی سلامتی کے لیے ایک نئے خطرے کے طور پر لیبل کیا ہے۔
Geopolitical Earthquake: The (Riyadh-Islamabad-Ankara) alliance sends shockwaves through global powers! 🇸🇦🇵🇰🇹🇷
— 🇸🇦Abdulsalam Saleh (@abdulslam2017) May 7, 2026
India is the first to signal alarm, as Lt. Gen. Rajiv Ghai (Commander of India’s XV Corps) officially labels Turkey a "new potential adversary" within the… pic.twitter.com/CCjScfd9Pi
پاکستان کی سلامتی
بین الاقوامی تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان کو دھمکیاں دینے والی قوتوں کے لیے یہ واضح پیغام ہے کہ اسلام آباد کی سلامتی اب سعودی عرب کی “ریڈ لائن” بن چکی ہے۔ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان موجود باہمی دفاعی معاہدہ اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کو ریاض پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ پاکستان کے دفاع کو مزید مضبوط بناتے ہوئے دشمنوں کو کسی بھی مہم جوئی سے باز رکھنے کے لیے ایک ڈھال کی حیثیت رکھتا ہے۔
علاقائی و عالمی اثرات
مبصرین کا کہنا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، صدر رجب طیب اردوان اور پاکستانی قیادت کے درمیان بڑھتا ہوا یہ تعاون نہ صرف دفاعی بلکہ معاشی لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے۔ اس اتحاد نے ثابت کر دیا ہے کہ اب خطے کے فیصلے مقامی طاقتیں کریں گی اور کسی بھی بیرونی مداخلت یا جارحیت کا مقابلہ متحد ہو کر کیا جائے گا۔