خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں فتنہ الخوارج کی پرتشدد کاروائیوں اور علمائے کرام کو نشانہ بنانے کے خلاف عوامی غم و غصے کی شدید لہر دوڑ گئی ہے۔ مقامی شہریوں نے شہر کی مختلف دیواروں پر دہشت گرد سرغنہ نور ولی کے خاکوں پر لعنت اور نفرین لکھ کر اپنی نفرت اور بیزاری کا برملا اظہار کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق معروف عالمِ دین مولانا شیخ ادریس کی المناک شہادت کے بعد علاقے میں کشیدگی اور عوامی اشتعال میں اضافہ ہوا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اسلام کے نام پر معصوم انسانوں کا خون بہانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
Monitoring:
— Eagle Eye (@zarrar_11PK) May 8, 2026
Public anger against Khawarij intensifies in Charsadda, Khyber Pakhtunkhwa, Pakistan
🚨 Citizens expressed their outrage by writing curses across the face of Khawarij terrorist Noor Wali on public walls, sending a clear message of rejection.
🚨 Following the… https://t.co/y8hBIXN0Wy pic.twitter.com/GusVrzNb04
حالیہ دنوں میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سمیت دیگر ممتاز مذہبی اسکالرز کی جانب سے خوارج کے خلاف واضح اور دو ٹوک مؤقف سامنے آنے کے بعد عوامی سطح پر ان گروہوں کے بارے میں مذمتی کی تحریک نے زور پکڑ لیا ہے۔
دیواروں پر تحریر کردہ نعروں میں واضح کیا گیا ہے کہ “اسلام کے نام پر دہشت گردی نامنظور” ہے۔ عوامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ مساجد، مدارس اور جید علمائے کرام پر حملے کر کے ان عناصر نے ثابت کر دیا ہے کہ ان کا دینِ اسلام اور انسانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
شہریوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ امن دشمن عناصر کے کسی بھی بیانیے کو قبول نہیں کریں گے اور دہشت گردی کے خلاف سیکورٹی فورسز اور ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں۔