افغانستان کے صوبہ بلخ سے انسانی حقوق کی پامالی اور جائیداد پر قبضے کا ایک افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں سابق اعلیٰ پولیس عہدیدار کے اہلخانہ نے ایک مقامی بااثر شخص اور طالبان رکن پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
سابق افغان صدر حامد کرزئی کے ابتدائی دورِ صدارت میں بلخ کے پولیس کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دینے والے ایشان خالد کی ہمشیرہ نے ایک ویڈیو بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کے خاندان کو بے گھر کر دیا گیا ہے۔ خاتون کے مطابق اختر لوچک نامی ایک مقامی پشتون جنگجو نے ان کے خاندانی گھر پر غیر قانونی طور پر قبضہ کر لیا ہے اور اسے واپس کرنے سے انکاری ہے۔
A woman identifying herself as the sister of Eshan Khalid, who briefly served as the commander of Balkh police during the early years of Hamid Karzai’s first presidency, claims that her family home was seized by a local Pashtun warlord known as Akhtar Lochak. She also alleges… pic.twitter.com/b60x4Z8Ze9
— Barmak Farsiwan (@Barmakf) May 7, 2026
زبردستی شادی کی کوشش
خاتون نے مزید انکشاف کیا کہ نہ صرف ان کی جائیداد چھینی گئی بلکہ ان پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ ضلع چمتال سے تعلق رکھنے والے طالبان کے ایک پشتون رکن سے زبردستی شادی کر لیں۔ خاتون کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس مطالبے کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا، جس کے بعد ان کے خاندان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے۔
خاندان کا بے گھر ہونا
متاثرہ خاتون کے مطابق، گھر پر قبضے اور بااثر افراد کی دھمکیوں کے باعث ان کا خاندان اس وقت در بدر ہے اور ان کے پاس رہنے کے لیے کوئی چھت موجود نہیں ہے۔ انہوں نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابقہ حکومتی عہدیداروں کے خاندانوں کو انتقامی کارروائیوں اور نسلی بنیادوں پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ایشان خالد کے خاندان کی جانب سے سامنے آنے والے ان الزامات نے ایک بار پھر افغانستان میں جائیدادوں کے تنازعات اور خواتین کو زبردستی شادیوں پر مجبور کیے جانے جیسے سنگین مسائل کو اجاگر کر دیا ہے۔