مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اس وقت سنگین رخ اختیار کر گئی جب ایرانی افواج نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے امریکی بحری بیڑے پر ڈرونز اور میزائلوں سے حملہ کر دیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی افواج نے نہ صرف ان حملوں کو ناکام بنایا بلکہ دفاعِ خود اختیاری کے تحت ایران کے اندر ان فوجی ٹھکانوں پر جوابی بمباری کی ہے جہاں سے یہ حملے کیے گئے تھے۔
ایرانی حملے کی تفصیلات
امریکی حکام کے مطابق یہ واقعہ 7 مئی کو اس وقت پیش آیا جب امریکی بحری بیڑہ بین الاقوامی سمندری حدود سے گزرتے ہوئے خلیج عمان کی جانب بڑھ رہا تھا۔ ایرانی افواج نے امریکی بحری جہازوں ‘یو ایس ایس ٹرکسٹن’، ‘یو ایس ایس رافیل پرالٹا’ اور ‘یو ایس ایس میسن’ کو میزائلوں، ڈرونز اور چھوٹی کشتیوں کے ذریعے نشانہ بنایا۔ تاہم، امریکی دفاعی نظام نے ان تمام خطرات کو فضا میں ہی تباہ کر دیا اور کسی بھی امریکی اثاثے کو نقصان نہیں پہنچا۔
بریکنگ: امریکہ کا ایران پر حملہ تاہم سنٹرل کمانڈ کے مطابق کشیدگی مزید بڑھانا نہیں چاہتے۔
— Waseem Abbasi (@Wabbasi007) May 7, 2026
سنٹرل کمانڈ نے بیان میں کہا ہے کہ:
امریکی افواج نے 7 مئی کو آبنائے ہرمز سے خلیجِ عمان کی جانب گزرنے والے امریکی بحری بیڑے پر ایران کے بلا اشتعال حملوں کو ناکام بنایا اور اپنے دفاع میں جوابی… pic.twitter.com/HnrZr1nPo2
امریکا کی جوابی کاروائی
سینٹ کام کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی افواج نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ان ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جو براہِ راست ان حملوں میں ملوث تھیں۔ ان اہداف میں میزائل اور ڈرون لانچ سائٹس، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، اور انٹیلی جنس و نگرانی کے مراکز شامل ہیں۔ امریکا نے واضح کیا کہ یہ کارروائی اپنی افواج کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کی گئی ہے۔
کشیدگی میں کمی کی خواہش
حالیہ حملوں کے باوجود امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھانا نہیں چاہتے۔ تاہم، بیان میں یہ انتباہ بھی دیا گیا ہے کہ امریکی افواج کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور اپنے جوانوں و اثاثوں پر ہونے والے کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دینے کے عزم پر قائم ہیں۔