سکیورٹی فورسز نے ضلع ہنگو میں فتنہ الخوارج کے 100 سے زائد دہشت گردوں کی دراندازی کی بڑی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے وسیع پیمانے پر آپریشن کیا ہے۔ آئی جی خیبرپختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے اس کامیاب ترین آپریشن پر پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے جوانوں کی شجاعت کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق دہشت گرد ضلع اورکزئی کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں سے ہنگو کے مختلف مقامات بشمول زرگری، شناوری اور نریاب میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز کے مطابق دہشت گردوں نے متعدد سرحدی چوکیوں کا محاصرہ کرنے کی بھی ناپاک کوشش کی، تاہم ہنگو پولیس، سی ٹی ڈی، ایف سی اور پاک فوج کے دستوں نے بروقت اور بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔
تین روز تک جاری رہنے والی ان خونریز جھڑپوں میں فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ مقامی عینی شاہدین کے مطابق، دہشت گرد اپنے ہلاک شدگان کی لاشیں اور زخمیوں کو اٹھا کر واپس فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کی جانب سے داغے گئے مارٹر گولے شہری آبادی پر بھی گرے، جس کے نتیجے میں افسوسناک طور پر 6 شہری شہید اور 13 زخمی ہوئے، جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
آئی جی پی ذوالفقار حمید نے آپریشن میں حصہ لینے والے ہنگو پولیس، سی ٹی ڈی، ایلیٹ فورس اور البرق فورس کے اہلکاروں کے لیے نقد انعامات اور تعریفی اسناد کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے لڑنے والے جوان قوم کا فخر ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ خیبرپختونخوا پولیس فتنہ الخوارج کے مکمل خاتمے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے اور اس فتنے کے بیخ کنی تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔ سیکیورٹی اداروں نے اسکولوں، عوامی املاک اور پہاڑی علاقوں کو دہشت گردوں سے مکمل کلیئر قرار دے دیا ہے۔
دیکھیے: افغانستان میں علماء کے قتل پر خاموشی برقرار، طالبان کے سکیورٹی دعوے بے نقاب