طالبان دورِ حکومت میں اہل تشیع کے علماء کو نشانہ بنانے کا ایک خوفناک سلسلہ جاری ہے۔ عید محمد اعتمادی، خادم حسین ہدایتی، رجب اخلاقی، محمد محسن حمیدی اور محمد تقی صدیقی جیسے نام محض انفرادی واقعات نہیں بلکہ ایک ہی جابرانہ ماحول اور تسلسل کا حصہ ہیں۔ جب مقتولین کے نام تبدیل ہو رہے ہوں لیکن ہلاکتوں کا طریقہ، انداز اور ماحول برقرار رہے، تو یہ محض اتفاق کے بجائے ایک منظم صورتحال اور پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔
سکیورٹی کا فقدان
یہ قتل کے واقعات کسی خلا میں نہیں ہو رہے بلکہ اس حکومت کے تحت ہو رہے ہیں جو پورے ملک پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ کرتی ہے۔ طالبان حکام ان واقعات میں محض تماشائی نہیں ہیں، کیونکہ یہ تمام واقعات ان کے نظام اور ان کی اتھارٹی کے سائے تلے رونما ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب کوئی نظام علاقے پر مکمل فوجی کنٹرول کا دعویٰ کرے لیکن انسانی جانوں کے تحفظ جیسے نتائج پر اس کی گرفت نہ ہو، تو اس کی ذمہ داری سے انکار ممکن نہیں رہتا۔
تحقیقات میں ناکامی
افسوسناک امر یہ ہے کہ ہر قتل کے بعد طالبان حکام کی جانب سے نہ تو کوئی گرفتاری عمل میں آئی، نہ ہی کسی نیٹ ورک کو توڑا گیا اور نہ ہی کوئی معتبر تحقیقات منظرِ عام پر آئی ہیں۔ ہر قتل کے بعد چھا جانے والی یہ پراسرار خاموشی محض غفلت نہیں بلکہ اس بات کی تصدیق ہے کہ قاتل کسی خوف کے بغیر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کسی بھی مجرمانہ کارروائی کے بعد عملی اقدام کی عدم موجودگی درحقیقت اس تشدد کو جاری رہنے کی خاموش اجازت دینے کے مترادف ہے۔
احتساب کی کمی
ایک ایسا نظام جو اپنی علمی و مذہبی شخصیات کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو جائے، وہ اپنی قانونی حیثیت اور حکمرانی کا اخلاقی دعویٰ نہیں کر سکتا۔ مسلسل ہلاکتیں اور زیرو احتساب طالبان حکومت کی انتظامی ناکامی کو براہِ راست ان کی ذمہ داری میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ بار بار ہونے والے قتل اور کسی بھی سطح پر سدِ باب نہ ہونا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ موجودہ نظام تشدد کے لیے سازگار ماحول فراہم کر رہا ہے۔
حتمی حقیقت
بنیادی حقیقت یہ ہے کہ طالبان نظام ان ہلاکتوں سے جدا نہیں ہے؛ یہ وہی ماحول ہے جس میں یہ جرائم جنم لیتے ہیں اور جوں کے توں برقرار رہتے ہیں۔ سیکیورٹی کا بلند بانگ دعویٰ وہاں دم توڑ جاتا ہے جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ خاموشی یہاں انکار نہیں بلکہ عملی اقدام کی عدم موجودگی کے ذریعے صورتحال کی توثیق ہے۔ اگر یہ نظام اپنے ہی شہریوں اور جید علما کی حفاظت نہیں کر سکتا، تو اس کی قانونی و اخلاقی بنیادیں مکمل طور پر کھوکھلی ہو چکی ہیں۔