نیویارک: دنیا کے معروف ترین فیشن ایونٹ ‘میٹ گالا 2026’ کے آغاز سے قبل ہی ایک بڑا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ ایمازون کے بانی اور ارب پتی شخصیت جیف بیزوز اور ان کی اہلیہ لورین سانچیز کو اس سال کی تقریب کے لیے اعزازی مشترکہ چیئرپرسن نامزد کیا گیا ہے، جس پر شوبز اور فیشن انڈسٹری کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، جیف بیزوز پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے میٹ گالا میں یہ بااثر اور نمایاں حیثیت حاصل کرنے کے لیے 10 سے 20 ملین ڈالرز کی بھاری رقم خرچ کی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدام روایتی فن پارہ سرپرستی کے بجائے ‘ثقافتی اثر و رسوخ کی خریداری’ کے مترادف ہے، جس نے اس باوقار تقریب کے معیار اور شفافیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
اس معاملے پر ‘ووگ’ کے ایک سابق ایونٹ منتظم نے بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں میٹ گالا میں شرکت اور عہدے خالصتاً میرٹ، تخلیقی صلاحیتوں اور فیشن کی دنیا میں اثر و رسوخ کی بنیاد پر دیے جاتے تھے، لیکن اب یہ ایونٹ ایک کاروباری لین دین کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے فیشن اور شوبز انڈسٹری کے کئی حلقوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے، اور اطلاعات کے مطابق کئی نامور شخصیات نے احتجاجاً اس سال کے میٹ گالا سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دیکھئیے:جنت مرزا کو اپنی فلم میں لینا تباہی کے سوا کچھ نہیں تھا: سید نور