دوحہ: قطر نے امریکہ سے باضابطہ مطالبہ کیا ہے کہ دوحہ میں مقیم 1100 سے زائد افغان مہاجرین کو 29 ستمبر 2026 تک کسی دوسرے مقام پر منتقل کیا جائے۔ قطری حکام کا مؤقف ہے کہ ان مہاجرین کی میزبانی کا معاہدہ عارضی بنیادوں پر کیا گیا تھا، لہٰذا اسے مستقل حیثیت نہیں دی جا سکتی۔
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ سفارتی دستاویزات کے مطابق، دونوں ممالک نے حال ہی میں اس ٹرانزٹ معاہدے کو 2026 تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ تاہم، قطر نے واضح کر دیا ہے کہ یہ آخری توسیع ہوگی اور مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد تمام مہاجرین کی منتقلی کی مکمل ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوگی۔ یہ مہاجرین ان افراد پر مشتمل ہیں جنہیں اگست 2021 میں طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد ہنگامی طور پر نکالا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق، یہ افغان شہری اس وقت دوحہ کے قریب واقع ‘کیمپ السیلیہ’ میں مقیم ہیں، جہاں وہ امریکہ یا دیگر مغربی ممالک میں مستقل آباد کاری کے منتظر ہیں۔ قطر نے امریکہ سے یہ بھی درخواست کی ہے کہ کیمپ میں موجود افراد کی قانونی حیثیت کا جلد فیصلہ کیا جائے اور مستقبل میں مزید کسی افغان مہاجر کو قطر نہ بھیجا جائے۔
یاد رہے کہ کیمپ السیلیہ 2021 میں امریکی انخلا کے دوران ایک اہم ترین ٹرانزٹ حب کے طور پر ابھرا تھا، جہاں سے ہزاروں افغان شہریوں کو بیرون ملک پروسیس کیا گیا۔ ابتدا میں یہ معاہدہ 2023 میں ختم ہونا تھا، لیکن انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اس میں بار بار توسیع کی گئی۔ اب قطر کے اس حالیہ مطالبے نے بائیڈن انتظامیہ پر دباؤ بڑھا دیا ہے کہ وہ ڈیڑھ سال کے اندر ان مہاجرین کی مستقل آباد کاری کے لیے متبادل انتظامات مکمل کرے۔
دیکھئیے:بلخ میں سابق پولیس کمانڈر کے گھر پر قبضے اور اہلخانہ کو زبردستی شادی پر مجبور کرنے کا انکشاف