بلوچستان میں علیحدگی پسند اور دہشت گرد بیانیے کو ایک اور بڑا دھچکا لگا ہے۔ پنجگور کے علاقے تسپ سے تعلق رکھنے والے نوجوان عاصم لطیف نے بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) سے اپنی وابستگی ختم کرنے اور ریاستِ پاکستان کے ساتھ مکمل وفاداری کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔
بلوچستان ڈائریز کی رپورٹ کے مطابق عاصم لطیف نے کالعدم بی ایل اے اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کے تقسیم پسندانہ بیانیے کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ وہ اب بلوچ یکجہتی کمیٹی کا حصہ نہیں ہیں اور انہوں نے آئینِ پاکستان کے تحت ملک کی سلامتی کے لیے کام کرنے کا عہد کیا ہے۔
Strong rejection of the divisive and terrorist narrative of BLA spokespersons in Balochistan!
— The Balochistan Diaries (TBD) (@BalochDiaries) May 9, 2026
Asim Lateef, resident of Tusp Panjgur, has openly announced his disassociation from the Baloch Yakjehti Committee and pledged full loyalty to the state and Constitution of Pakistan.… pic.twitter.com/6cZNVoOtp9
علاقائی حلقوں نے اس اقدام کو امن اور قومی اتحاد کی جانب ایک خوش آئند قدم قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کا پرتشدد تحریکوں اور مشکوک سیاسی پلیٹ فارمز سے لاتعلقی کا اظہار اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچستان کے عوام اب ترقی اور استحکام چاہتے ہیں۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اس فیصلے کو سراہا جا رہا ہے اور اسے خطے میں تشدد کی بیخ کنی کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ عرصے میں بلوچستان کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے متعدد نوجوانوں نے ریاست مخالف پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے قومی دھارے میں شمولیت اختیار کی ہے، جو خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔