مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں اچانک تیزی آگئی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں تعطل اور خلیجی شپنگ روٹس، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں سپلائی متاثر ہونے کے خدشات نے تیل کی قیمتوں کو تین فیصد تک اوپر دھکیل دیا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں پیر کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت 2.8 فیصد اضافے کے بعد 104.06 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گئی ہے، جبکہ امریکی خام تیل 2.7 فیصد اضافے کے ساتھ 97.97 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے “ناقابلِ قبول” قرار دیے جانے کے بعد خطے میں جنگ بندی کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں، جس کا براہِ راست اثر توانائی کی سپلائی چین پر پڑ رہا ہے۔
جے پی مورگن کے عالمی سربراہ برائے اقتصادیات، بروس کسمن کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال سنگین مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں فی الحال عالمی معیشت کے لیے مکمل رکاوٹ نہیں بنیں، تاہم آبنائے ہرمز کی طویل مدتی بندش مارکیٹ میں شدید ردعمل پیدا کر سکتی ہے۔
دوسری جانب عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کی تلاش میں ہیں، جس کی وجہ سے ڈالر کی قدر میں اضافہ اور یورو میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
عالمی سرمایہ کاروں کی نظریں اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آئندہ دورہ چین پر لگی ہیں، جہاں چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں تجارت، مصنوعی ذہانت اور جوہری امور کے ساتھ ساتھ عالمی توانائی کے استحکام پر بھی اہم بات چیت متوقع ہے۔