رانا ثناء اللہ نے کہا کہ لانگ مارچ مؤخر کیے جانے تک پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں ہوسکتے، حکومت اور تحریک انصاف میں بیک ڈور رابطے جاری ہیں۔

September 24, 2026

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے منشور میں پاک افغان سرحد سے متعلق بیانیے پر سیاسی اور قانونی حلقوں میں شدید بحث چھڑ گئی ہے۔

September 24, 2026

سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ پھر سامنے آگیا، فاروق ستار نے 6 یونٹس، یکساں وسائل اور بااختیار بلدیاتی نظام کی حمایت کردی۔

September 24, 2026

پشاور لانگ مارچ کی جانب جانے والی غلیلوں سے بھری گاڑی پکڑی گئی۔ حکام نے جلاؤ گھیراؤ اور املاک کو نقصان پہنچانے کا خدشہ ظاہر کر دیا۔

September 24, 2026

ملک میں بہتر طرزِ حکمرانی اور مساوی ترقی کے لیے نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے، جس کی 76 فیصد نوجوانوں نے توثیق کر دی ہے۔

September 24, 2026

بی این ایم کے وفد نے جنیوا میں اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ سے ملاقات کر کے جبری گمشدگیوں سے متعلق رپورٹ پیش کی ہے۔

September 24, 2026

مشرقِ وسطیٰ بحران کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ

خلیجی کشیدگی اور امریکہ ایران مذاکرات میں تعطل کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں برینٹ کروڈ 104 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
خلیجی کشیدگی اور امریکہ ایران مذاکرات میں تعطل کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے برینٹ کروڈ 104 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے۔

خلیجی خطے میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے خدشات؛ عالمی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ اور امریکی خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ، ڈالر مستحکم جبکہ اسٹاک مارکیٹ دباؤ کا شکار۔

May 11, 2026

مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں اچانک تیزی آگئی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں تعطل اور خلیجی شپنگ روٹس، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں سپلائی متاثر ہونے کے خدشات نے تیل کی قیمتوں کو تین فیصد تک اوپر دھکیل دیا ہے۔

عالمی مارکیٹ میں پیر کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت 2.8 فیصد اضافے کے بعد 104.06 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گئی ہے، جبکہ امریکی خام تیل 2.7 فیصد اضافے کے ساتھ 97.97 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے “ناقابلِ قبول” قرار دیے جانے کے بعد خطے میں جنگ بندی کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں، جس کا براہِ راست اثر توانائی کی سپلائی چین پر پڑ رہا ہے۔

جے پی مورگن کے عالمی سربراہ برائے اقتصادیات، بروس کسمن کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال سنگین مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں فی الحال عالمی معیشت کے لیے مکمل رکاوٹ نہیں بنیں، تاہم آبنائے ہرمز کی طویل مدتی بندش مارکیٹ میں شدید ردعمل پیدا کر سکتی ہے۔

دوسری جانب عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کی تلاش میں ہیں، جس کی وجہ سے ڈالر کی قدر میں اضافہ اور یورو میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

عالمی سرمایہ کاروں کی نظریں اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آئندہ دورہ چین پر لگی ہیں، جہاں چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں تجارت، مصنوعی ذہانت اور جوہری امور کے ساتھ ساتھ عالمی توانائی کے استحکام پر بھی اہم بات چیت متوقع ہے۔

متعلقہ مضامین

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ لانگ مارچ مؤخر کیے جانے تک پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں ہوسکتے، حکومت اور تحریک انصاف میں بیک ڈور رابطے جاری ہیں۔

September 24, 2026

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے منشور میں پاک افغان سرحد سے متعلق بیانیے پر سیاسی اور قانونی حلقوں میں شدید بحث چھڑ گئی ہے۔

September 24, 2026

سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ پھر سامنے آگیا، فاروق ستار نے 6 یونٹس، یکساں وسائل اور بااختیار بلدیاتی نظام کی حمایت کردی۔

September 24, 2026

پشاور لانگ مارچ کی جانب جانے والی غلیلوں سے بھری گاڑی پکڑی گئی۔ حکام نے جلاؤ گھیراؤ اور املاک کو نقصان پہنچانے کا خدشہ ظاہر کر دیا۔

September 24, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *