اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل میں “معرکۂ حق” کی کامیابی کا ایک سال مکمل ہونے پر ایک خصوصی تقریبِ رونمائی کا انعقاد کیا گیا، جس میں کتاب “Marka-e-Haq: Deterrence, Provocation and Strategic Maturity in South Asia” کو باضابطہ طور پر پیش کیا گیا۔ اس اہم تصنیف کی ادارت معروف اسکالر ڈاکٹر ظفر نے کی ہے، جبکہ کتاب میں جنوبی ایشیا کی اسٹریٹجک صورتحال، ڈیٹرنس، علاقائی کشیدگی اور پاکستان کے مؤقف پر تفصیلی تحقیقی مضامین شامل ہیں۔
تقریب میں سفارتی، عسکری، علمی اور پالیسی حلقوں سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کے مہمانانِ خصوصی اور استقبالیہ کلمات میں سفیر علی سرور نقوی، ڈائریکٹر سی آئی ایس ایس، نے کتاب کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ “معرکۂ حق” صرف ایک عسکری کامیابی نہیں بلکہ پاکستان کی اسٹریٹجک بصیرت، تحمل اور مؤثر ڈیٹرنس پالیسی کی علامت ہے۔
کتاب کے مختلف ابواب معروف ماہرین، سفارتکاروں اور سابق عسکری حکام نے تحریر کیے ہیں جن میں ڈاکٹر رضوانہ، ڈاکٹر جسپال، لیفٹیننٹ جنرل مظہر جمیل، سفیر ضمیر اکرم، ڈاکٹر ظہیر کاظمی، ڈاکٹر اختر، ڈاکٹر نعیم صادق، ڈاکٹر خالد، لیفٹیننٹ جنرل سرفراز اور لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض شامل ہیں۔ مقررین نے جنوبی ایشیا میں بدلتی ہوئی جغرافیائی و تزویراتی صورتحال، پاکستان کی دفاعی حکمت عملی اور خطے میں پائیدار امن کے امکانات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
تقریب کے دوران مقررین کا کہنا تھا کہ یہ کتاب نہ صرف “معرکۂ حق” کے مختلف پہلوؤں کو دستاویزی شکل دیتی ہے بلکہ نئی نسل، پالیسی سازوں اور محققین کے لیے ایک اہم تحقیقی حوالہ بھی ثابت ہوگی۔ شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ جنوبی ایشیا میں امن کے قیام کے لیے ذمہ دارانہ طرزِ عمل، سفارتی توازن اور مؤثر ڈیٹرنس ناگزیر ہیں۔
تقریب کے اختتام پر کتاب کی باضابطہ رونمائی کی گئی جبکہ شرکاء نے اس علمی کاوش کو پاکستان کے اسٹریٹجک بیانیے میں ایک اہم اضافہ قرار دیا۔