ایرانی وزارتِ خارجہ نے واضح کر دیا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان ہی واحد اور باضابطہ ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ترجمان وزارتِ خارجہ کے مطابق، ایران اور امریکہ کے درمیان رابطوں کے لیے پاکستان کی حیثیت کلیدی ہے اور تہران کو اسلام آباد کی سفارتی کوششوں پر مکمل اعتماد ہے۔ یہ بیان ان خبروں کے بعد سامنے آیا ہے جن میں دیگر علاقائی ممالک کے کردار کے حوالے سے قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں۔
دیگر ممالک کا کردار اور مشاورتی حیثیت
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے قطر اور دیگر ممالک کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ قطر سمیت کئی دوست ممالک دونوں فریقین کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں، لیکن ان کی حیثیت مشاورتی ہے۔
یہ ممالک ضروری سمجھنے پر اپنی آراء اور خیالات ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ شیئر کرتے ہیں، تاہم سرکاری اور باضابطہ ثالث کے طور پر صرف پاکستان ہی اپنی ذمہ داریاں نبھا رہا ہے۔
Iran makes it clear that Pakistan is the only mediator, Iran's Foreign Ministry Spox says, "Our mediator is still Pakistan, which continues its work as the official mediator between Iran and the United States. Other countries, including Qatar, also have contacts with both sides…
— Anas Mallick (@AnasMallick) May 11, 2026
پاکستان کی اہمیت
بین الاقوامی امور کے ماہرین اس بیان کو پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی اور علاقائی امن کے لیے اس کی ناگزیر حیثیت کی فتح قرار دے رہے ہیں۔ تہران کا یہ دو ٹوک موقف ثابت کرتا ہے کہ مغربی میڈیا کی جانب سے پاکستان کے کردار کو مشکوک بنانے کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ پاکستان نہ صرف دونوں فریقین کے لیے قابلِ قبول ہے بلکہ اس نے اپنی غیر جانبداری اور شفافیت سے عالمی سطح پر اپنا لوہا منوا لیا ہے۔
مذاکراتی عمل کا مستقبل
ایرانی وزارتِ خارجہ کے اس اعلان کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ اسلام آباد مذاکرات کا اگلا مرحلہ مزید تیزی سے آگے بڑھے گا۔ پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ لاجسٹک اور انتظامی معاونت نے پہلے ہی فریقین کو ایک میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اب تہران کی جانب سے اس باضابطہ تصدیق کے بعد عالمی برادری کی نظریں ایک بار پھر اسلام آباد پر جم گئی ہیں، جہاں سے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی امن کے لیے بڑی پیش رفت متوقع ہے۔