خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت کے مصروف تجارتی مرکز سرائے نورنگ بازار میں ایک ہولناک دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں 2 ٹریفک پولیس اہلکاروں سمیت 7 افراد شہید ہو گئے۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق، دھماکے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیموں نے کاروائی شروع کی اور شہداء کی لاشوں کو نورنگ ہسپتال منتقل کیا گیا۔
واقعے میں 18 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کی بڑی تعداد کے پیشِ نظر سرائے نورنگ اسپتال میں ہنگامی حالت (ایمرجنسی) نافذ کر دی گئی ہے۔
تحقیقات اور تفصیلات
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) نذیر خان نے میڈیا کو بتایا کہ دہشت گردی کی اس کاروائی میں ایک گاڑی کا استعمال کیا گیا، جس میں ایک من سے زائد بارودی مواد رکھا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ آیا یہ خودکش حملہ تھا یا ریموٹ کنٹرول دھماکہ۔ ڈی پی او کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے اب معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے، تاہم ان بزدلانہ کارروائیوں سے فورسز کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے۔
رپورٹ کی طلبی
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے آئی جی پولیس سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے شہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معصوم شہریوں اور ٹریفک اہلکاروں کو نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک ہے اور صوبائی حکومت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گی۔
قومی عزم اور وزیرِ داخلہ کا بیان
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بھی لکی مروت دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے عفریت کا سر کچلنے کے لیے پوری قوم یکجان اور متحد ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے عوام اور سکیورٹی ادارے دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں آخری حد تک جائیں گے اور قیمتی جانوں کا ضیاع کرنے والے عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔