امجد طہ نے سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے اسے ایک ناکام ثالث ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے الزامات میں ایرانی طیاروں کو چھپانے، دوہرا کھیل کھیلنے اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالی جیسے من گھڑت دعوے شامل ہیں۔ تاہم زمینی حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ٹویٹ محض انفرادی رائے نہیں بلکہ ایک منظم پراپیگنڈے کا حصہ ہے جس کا مقصد عالمی سطح پر پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔
صیہونی وابستگی
امجد طہ کی ساکھ کا جائزہ لیا جائے تو ان کا جھکاؤ واضح طور پر صیہونی حلقوں کی جانب نظر آتا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسی متعدد تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں جو ان کی صیہونیت سے قربت اور اسرائیل کے لیے ان کی خدمات کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایک ایسی شخصیت جس کا اپنا نظریاتی ایجنڈا متنازع اور جانبدارانہ ہو، اس کی جانب سے پاکستان جیسے ذمہ دار ملک پر “گندے اتحاد” کے الزامات لگانا صحافتی بددیانتی کی بدترین مثال ہے۔
سفارتی پروٹوکول
اسی طرح عالمی میڈیا اور نامور صحافیوں نے ایرانی طیاروں کی نور خان ایئربیس پر موجودگی کو “طیارے چھپانے” سے تعبیر کیا، جو کہ سراسر جھوٹ ہے۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ یہ طیارے اسلام آباد مذاکرات کے دوران لاجسٹک اور انتظامی معاونت کے لیے عارضی طور پر موجود تھے۔ جب فریقین کے درمیان باقاعدہ جنگ بندی موجود ہو، تو کسی ‘خفیہ پناہ’ کا دعویٰ صرف وہی شخص یا ادارہ کر سکتا ہے جو سفارتی آداب سے مکمل نابلد ہو۔
Pakistan has failed 7 times now and has been hiding the Islamic regime in Iran’s aircraft. Don’t trust Pakistan, they are not a mediator. Islamabad is not a place for negotiations; it is a playground for double games and dirty alliances.Pakistan sheltered Osama Bin Laden and…
— Amjad Taha أمجد طه (@amjadt25) May 12, 2026
تہران کی تصدیق
امجد طہ کے الزامات کی سب سے بڑی نفی خود ایران کی جانب سے سامنے آئی ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے گزشتہ کل کے بیان میں دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع میں پاکستان ہی ان کا “واحد اور باضابطہ ثالث” ہے۔ تہران کے اس بیان نے امجد طہ کے ان دعوؤں کو ریت کی دیوار ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، اور ثابت کیا کہ اسلام آباد عالمی امن کا ایک مستند مرکز ہے۔
بلوچستان کے حقائق
بلوچستان میں نسل کشی کا راگ الاپنے والے مبصرین دانستہ طور پر ان حقائق کو نظر انداز کرتے ہیں کہ وہاں اصل میں کون خون بہا رہا ہے۔ بی ایل اے اور بی ایل ایف جیسی دہشت گرد تنظیمیں اب تک 140 سے زائد ان بلوچ نوجوانوں کو قتل کر چکی ہیں جنہوں نے ان کے پرتشدد ایجنڈے کو مسترد کیا۔ اس تمام بدامنی کے پیچھے بھارت کی باقاعدہ پشت پناہی اور مالی معاونت کے ناقابلِ تردید ثبوت موجود ہیں۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اس بات کی زندہ مثال ہے کہ کس طرح بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ بلوچستان میں علیحدگی پسندی کی آگ بھڑکانے کے لیے دہشت گردوں کو تربیت اور فنڈز فراہم کر رہی ہے۔
حال ہی میں پاکستانی اداروں نے ایک ایسی بلوچ لڑکی کو بھی بچایا جسے دہشت گردوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے ورغلا کر خودکش حملے کے لیے تیار کیا تھا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمن اب بلوچ خواتین اور نوجوانوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ بھارت کا مقصد بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں، خاص طور پر سی پیککو سبوتاژ کرنا ہے تاکہ خطے میں معاشی استحکام نہ آ سکے۔ ریاستِ پاکستان وہاں ان بھارتی ایما پر کام کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف نبرد آزما ہے تاکہ اپنے شہریوں کا تحفظ اور صوبے کی خوشحالی کو یقینی بنا سکے۔
بھارتی اور آبی دہشت گردی
امجد طہ نے بھارت کو پاکستان کے متبادل کے طور پر پیش کیا، لیکن وہ اس حقیقت سے آنکھیں چرا گئے کہ بھارت اس وقت پاکستان کے خلاف “آبی دہشت گردی” میں ملوث ہے اور سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔ مئی 2025 کی عسکری شکست کے بعد امریکہ کے ذریعے جنگ بندی کی بھیک مانگنے والا ملک خطے میں کسی بھی صورت امن کا ضامن نہیں ہو سکتا۔ بھارت کی آبی اور سرحدی جارحیت اسے خطے کے لیے ایک خطرہ بناتی ہے۔
امجد طہ کا پراپیگنڈا دراصل ‘معرکہ حق’ کی پہلی سالگرہ اور اسلام آباد مذاکرات کی کامیابی سے پیدا ہونے والی بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے۔ پاکستان کی بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک اہمیت اور علاقائی امن میں اس کا کلیدی کردار ان مخصوص عناصر کے لیے ناقابلِ برداشت ہے جو جنوبی ایشیا میں عدم استحکام اور انتشار دیکھنا چاہتے ہیں۔