پاکستان نے سی بی ایس نیوز کی جانب سے ایرانی طیاروں کی موجودگی سے متعلق رپورٹ کو گمراہ کن اور سنسنی خیز قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ دفترِ خارجہ کے مطابق یہ طیارے سفارتی مذاکرات کے لیے لاجسٹک سپورٹ کا حصہ تھے، جبکہ امریکی میڈیا کا بدلتا ہوا کارپوریٹ کنٹرول اور مخصوص اسرائیل نواز لابی اس پراپیگنڈے کے پیچھے اصل محرک معلوم ہوتی ہے۔

May 12, 2026

بھارت اس وقت ایک سوچی سمجھی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جہاں وہ آہستہ آہستہ معاہدے کی اہم شقوں کو توڑ رہا ہے۔ پاکستان نے اس کیس کو مستقل عدالتِ ثالثی میں لے جا کر ایک درست قدم اٹھایا ہے، تاہم بھارت کا اس عالمی عدالت کو تسلیم کرنے سے انکار اس کی بین الاقوامی لاقانونیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

May 12, 2026

امجد طہ کے پاکستان مخالف الزامات کا تفصیلی جائزہ؛ ایران، ثالثی عمل اور بلوچستان سے متعلق دعوے حقائق، سفارتی مؤقف اور زمینی صورتحال کے تناظر میں بے نقاب۔

May 12, 2026

جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ویڈیو لنک کے ذریعے آن لائن پیشیوں کا نظام بھی متعارف کرایا جا سکتا ہے، جس سے غیر ضروری سفر میں نمایاں کمی آئے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ عدالتی عملے، بنیادی انفراسٹرکچر اور سکیورٹی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا بھی نہایت ضروری ہے تاکہ نظام مؤثر اور پائیدار انداز میں چل سکے۔

May 12, 2026

مسلمانوں کو نا صرف بچا لیا جائے گا بلکہ وہ دنیا کے فاتح بھی کہلائیں گے۔ جس کے ساتھ ہی دنیا امن کا گہوارہ بن جائے گی ۔ اس وقت فرعون اور اس کے لشکر کے لیے مقام عبرت یہی خطہ تھا ۔ آنے والے وقت میں یہودیوں کے خاتمے اور اسلام کے غلبے کا بھی یہی خطہ ہو گا ۔اور ہر سو کلمہ توحید کا پرچم لہرا یا جائے گا۔

May 12, 2026

لکی مروت کے سرائے نورنگ بازار میں گاڑی کے ذریعے کیے گئے دھماکے میں 7 افراد شہید اور 18 زخمی ہو گئے۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دیں۔

May 12, 2026

 گریٹر اسرائیل درحقیقت یہودیوں کا خاتمہ ہے

مسلمانوں کو نا صرف بچا لیا جائے گا بلکہ وہ دنیا کے فاتح بھی کہلائیں گے۔ جس کے ساتھ ہی دنیا امن کا گہوارہ بن جائے گی ۔ اس وقت فرعون اور اس کے لشکر کے لیے مقام عبرت یہی خطہ تھا ۔ آنے والے وقت میں یہودیوں کے خاتمے اور اسلام کے غلبے کا بھی یہی خطہ ہو گا ۔اور ہر سو کلمہ توحید کا پرچم لہرا یا جائے گا۔
 گریٹراسرائیل درحقیقت یہودیوں کا خاتمہ ہے

مستقبل کے واقعات کے حوالے سے بیان کی گئی احادیث مبارکہ کے تناظر میں حتمی بات یا وقت کا تعین تو نہیں کیا جا سکتا ۔ البتہ  کہا جا سکتا ہے ، یہ ہو سکتا ہے ، ایسا ہو سکتا ہے ، ایک امکانی صورت یہ بھی ہو سکتی ہے اس کے باوجود حتمی  طور پر نہیں ۔

May 12, 2026

سات اکتوبر 2023 سے لیکر  اب تک ایک بیان میڈیا پربہت زیادہ فوکس کیا جارہا ہے ۔ گریٹر اسرائیل گریٹر اسرائیل ۔خاص منصوبہ بندی کے تحت اس دو لفظی جملے کو ہوا بنا کر مسلم دنیا میں خوف وہراس پیدا کرنے کی ناکام کوشش کی جارہی ے ۔ اعصاب کو کمزور کیا جارہا ہے ، جزبات سے کھیلا جارہا ہے ۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے ۔ کہ بہت سوں نے دجال کے خروج کا ٹائم فریم دینا شروع کر دیا۔ یہ سب کچھ وہ کر رہے ہیں جو خود متذبذب کا شکار ہیں ۔ یہ کوئی مبالغہ آرائی نہیں بلکہ زمینی و شرعی حقائق ہیں کہ گریٹر اسرائیل کا قیام “دجال کی آمد ” ہی ملعون یہودیوں کے خاتمے کا واضح اشارہ ہے، نوشتہ دیوار ہے۔

مستقبل کے واقعات کے حوالے سے بیان کی گئی احادیث مبارکہ کے تناظر میں حتمی بات یا وقت کا تعین تو نہیں کیا جا سکتا ۔ البتہ  کہا جا سکتا ہے ، یہ ہو سکتا ہے ، ایسا ہو سکتا ہے ، ایک امکانی صورت یہ بھی ہو سکتی ہے اس کے باوجود حتمی  طور پر نہیں۔ بہرحال اس دوران مسلمان اپنی بعض بداعمالیوں کے سبب سخت پکڑ میں آئیں گے۔ جبکہ گریٹر اسرائیل کا خاتمہ  باعمل قرآن وسنت کے حامل مسلمانوں کے ہاتھوں ہی ہونا ہے ۔ کس مسلمان نے کس گروہ میں شامل ہونا ہے ؟۔ یہ اس کی صوابدیدپر ہے ۔

گذشتہ 78 سالوں کے دوران اسرائیل کی جانب سے ہونے والی بربریت ، سفاکیت ، فرعونیت قتل وغارت گری کو سمجھنے کے لیے صدیوں پیچھےجانا پڑے گا۔ جب فرعون نے  خواب میں دیکھا کہ بیت المقدس کی طرف سے آگ کا ایسا بگولہ آیا۔ جس نے پورے مصر کو گھیر لیا اور تمام قبطیوں )فرعون کی قوم   (کو جلا کر راکھ کر دیا۔ یہ عجیب وغریب خواب دیکھ کر فرعون بہت پریشان ہوا۔ اس نے  نجومیوں ،کاہنوں کو بلا کر اس کی تعبیر پوچھی۔ نجومیوں نے تعبیر بتاتے ہوئے کہا  “تیری قوم میں ایک لڑکا پیدا ہو گا جو تیری بادشاہت وسلطنت کے خاتمے کا سبب بنے گا”۔ تعبیر سن کر فرعون اس حد تک خوفزدہ ہو گیا کہ اس نے اپنی سلطنت میں پیدا ہونے والے تمام اولاد نرینہ کو قتل کرنے کا حکم صادر کر دیا ۔ جس کے نتیجے میں ہزاروںمعصوم بچوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ لیکن اللہ کی مشیت کچھ اور ہی تھی ۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے آخرکار فرعون کے محل میں پرورش پا کر اسی کی خدائی اور سلطنت کو چیلنج کر دیا ۔ لا محالہ آج ایسے ہی خوف کا شکار ملعون یہودی و صہیونی ہیں۔

وہ مسلمانوں سے زیادہ ان احادیث مبارکہ کا ادراک رکھتے ہیں ۔ جس میں ملعونوں کے مغلوب ہونے کا نہیں بلکہ خاتمے کا ذکر بہت ہی واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے ۔ کہ ہرشجر و حجر پکار اٹھے گا   “اے مسلمان !میرے پیچھے یہودی چھپا ہے ، آئو اسے قتل کرو” ۔ سوائے غرقد کے درخت کے کیونکہ وہ یہودیوں کا درخت ہے ۔موجودہ سنگین صورت حال کا تقاضا تو یہی ہے کہ مسلم پرنٹ ، سوشل اور الیکٹرونک میڈیا گریٹر اسرائیل کا نام لینے کی بجائے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام  اور خلیفہ مہدی محمد بن عبداللہ کا نام لیکر ملعونوں پر خوف طاری جاری رکھے۔ بار بار گریٹر اسرائیل کا نام لیکر یہ تاثر دینے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے کہ آج نہیں تو کل دجال مدینہ پہنچنے والا ہے ۔ دورفتن کے بارے میں بیان کی گئی احادیث مبارکہ کا مین مقصد ہی مسلمانوں کی رہنمائی کرنے ، ایمان  بڑھانے ، تیاری کرنے کا تھا ناکہ خوف وہراس پیدا کر کے مورال کو ڈائون کرنا تھا ۔موجودہ جنگی حالات میں خوف زدہ ہونے کی بجائے اس نبوی اسٹریٹجک پہلو کو سمجھنا اوراس پر عمل کرنا اشد ضروری ہوگیا ہے ۔

کیا یہ محض اتفاقات زمانہ ہے یا پھر مشیت الہی؟ فرعون کو بیت المقدس کی جانب سے شعلے برساتی آگ نظر آئی ۔ یعنی فرعون کی رعونیت وخدائی نظریہ کے زمین بوس ہونے کا آغاز اسی سرزمین سے ہو ا۔ حیرت انگیز طور پر آج بیت المقدس ملعونوں کے قبضے میں ہے ۔ جو اسی خطے کا  ہی حصہ ہے ۔ آنے والے وقت کے موسیٰ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا  اسی  خطہ میں نا صرف نزول ہونا ہے بلکہ اسی  بیت المقدس کے قریب  “لدLod, Lydda ” کے مقام پر  یہودیوں کے سرغنے دجال کو بھی اپنے خنجر سے قتل کرنا ہے۔ فرعون اپنے عظیم الشان لشکر کے ساتھ سمندر برد ہوا اور رہتی دنیا تک نشان عبرت بنا دیا گیا ۔ اسی طرح  اصفہانی یہودیوں سمیت اسرائیل میں موجود 60 لاکھ یا اس سے زیادہ یہودی، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام خلیفہ مہدی محمد بن عبداللہ اور ان کے لشکر کے ہاتھوں جہنم واصل ہوں گے۔پہلے فرعون کو اس کی سرکشی ، عہد شکنی ، تکبر،شرک، نسل کشی جیسے بھیانک افعال کی بناء پر اس کی قوم سمیت غرقاب کر دیا گیا۔ اور بنی اسرائیل کو بچا لیا گیا ۔ اسی طرح اسرائیلی بھی انہی اعمال بدکی وجہ سے  سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں اپنےبدترین انجام کو پہنچیں گے۔  

مسلمانوں کو نا صرف بچا لیا جائے گا بلکہ وہ دنیا کے فاتح بھی کہلائیں گے۔ جس کے ساتھ ہی دنیا امن کا گہوارہ بن جائے گی ۔ اس وقت فرعون اور اس کے لشکر کے لیے مقام عبرت یہی خطہ تھا ۔ آنے والے وقت میں یہودیوں کے خاتمے اور اسلام کے غلبے کا بھی یہی خطہ ہو گا ۔اور ہر سو کلمہ توحید کا پرچم لہرا یا جائے گا ۔ دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا غلبہ ہو جائے گا ۔ تو کیا تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے ؟۔ بے شک “گریٹر اسرائیل کا قیام ) دجال کی آمد  ( ہی یہودیوں کا خاتمہ ہے”۔ نسل پرستوں کا خوف فرعون کے خوف سے زیادہ بڑا ہے ۔ فرعون نے تو صرف ہزاروں بچے مارے تھے ۔ دجال کے پیروکاوں کی شیطانیت کے خوف کا یہ عالم ہے۔  آٹھ دہائیوں سے لیکر اب تک ایک ملین سے زائد  نہتے مرد ،عورتیں اور معصوم بچے و بچیاں شہید کر دی گئی ہیں ۔ اپنے خاتمے کے خوف نے ان کی راتوں کی نیندیں اڑا رکھی ہیں ، ذہنی توازن کھو چکے ہیں ۔ یہی وقت ہے ان کے اسی خوف کو کیش کیا جائے ۔ بے شک گریٹر اسرائیل ہی یہود کا خاتمہ ہے ۔

نوٹ: ادارے کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

متعلقہ مضامین

پاکستان نے سی بی ایس نیوز کی جانب سے ایرانی طیاروں کی موجودگی سے متعلق رپورٹ کو گمراہ کن اور سنسنی خیز قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ دفترِ خارجہ کے مطابق یہ طیارے سفارتی مذاکرات کے لیے لاجسٹک سپورٹ کا حصہ تھے، جبکہ امریکی میڈیا کا بدلتا ہوا کارپوریٹ کنٹرول اور مخصوص اسرائیل نواز لابی اس پراپیگنڈے کے پیچھے اصل محرک معلوم ہوتی ہے۔

May 12, 2026

بھارت اس وقت ایک سوچی سمجھی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جہاں وہ آہستہ آہستہ معاہدے کی اہم شقوں کو توڑ رہا ہے۔ پاکستان نے اس کیس کو مستقل عدالتِ ثالثی میں لے جا کر ایک درست قدم اٹھایا ہے، تاہم بھارت کا اس عالمی عدالت کو تسلیم کرنے سے انکار اس کی بین الاقوامی لاقانونیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

May 12, 2026

امجد طہ کے پاکستان مخالف الزامات کا تفصیلی جائزہ؛ ایران، ثالثی عمل اور بلوچستان سے متعلق دعوے حقائق، سفارتی مؤقف اور زمینی صورتحال کے تناظر میں بے نقاب۔

May 12, 2026

جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ویڈیو لنک کے ذریعے آن لائن پیشیوں کا نظام بھی متعارف کرایا جا سکتا ہے، جس سے غیر ضروری سفر میں نمایاں کمی آئے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ عدالتی عملے، بنیادی انفراسٹرکچر اور سکیورٹی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا بھی نہایت ضروری ہے تاکہ نظام مؤثر اور پائیدار انداز میں چل سکے۔

May 12, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *