انڈیا کے سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ منوج نروانے نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی بحالی اور دوطرفہ تعلقات کی بہتری کی حمایت کر دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان عوامی سطح پر دوستی اور رابطہ ہی بہتر تعلقات کی بنیاد بن سکتا ہے۔
آر ایس ایس رہنماء کا بیان
انڈین میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق آرمی چیف نے ہندو نظریاتی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے اہم رہنماء دتاتریہ ہوسبالے کے اس مؤقف کی تائید کی ہے جس میں انہوں نے پاکستان کے ساتھ بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے پر زور دیا تھا۔ دتاتریہ ہوسبالے نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا تھا کہ انڈیا کو ہمیشہ مذاکرات کے لیے تیار رہنا چاہیے اور سفارتی راستے بند نہیں کرنے چاہییں۔
عوامی مسائل اور چیلنجز
بدھ کے روز انڈیا کے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل ریٹائرڈ منوج نروانے نے انسانی ہمدردی کے پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحد کے دونوں جانب عام لوگ بستے ہیں جنہیں روٹی، کپڑا اور مکان جیسے ایک جیسے بنیادی مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ “عام آدمی کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، وہ صرف بہتر زندگی کا خواہش مند ہے۔”
تعلقات کی بہتری کا راستہ
سابق انڈین آرمی چیف نے اس بات پر زور دیا کہ جب دونوں اطراف کے عوام کے درمیان براہِ راست دوستی اور ہم آہنگی پیدا ہوگی، تو اس کا لازمی نتیجہ دونوں ممالک کے درمیان مجموعی دوستی کی صورت میں نکلے گا۔ سفارتی ماہرین منوج نروانے جیسے اہم عسکری پس منظر رکھنے والے شخص کے اس بیان کو خطے میں امن کی نئی کوششوں کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں۔