"> سابق انڈین آرمی چیف کی پاکستان سے مذاکرات کی حمایت، دوطرفہ تعلقات بہتر بنانے پر زور - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

سابق انڈین آرمی چیف کی پاکستان سے مذاکرات کی حمایت، دوطرفہ تعلقات بہتر بنانے پر زور

سابق انڈین آرمی چیف منوج نروانے نے پاکستان سے مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے عوام کے مسائل ایک جیسے ہیں اور عوامی سطح پر دوستی ہی تعلقات کی بہتری کا راستہ ہے۔
سابق انڈین آرمی چیف منوج نروانے نے پاکستان سے مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے عوام کے مسائل ایک جیسے ہیں اور عوامی سطح پر دوستی ہی تعلقات کی بہتری کا راستہ ہے۔

انڈیا کے سابق آرمی چیف جنرل (ر) منوج نروانے کا پاکستان سے متعلق اہم بیان؛ آر ایس ایس رہنماء کے مذاکرات کے مطالبے کی تائید اور عوامی دوستی پر زور۔

May 14, 2026

انڈیا کے سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ منوج نروانے نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی بحالی اور دوطرفہ تعلقات کی بہتری کی حمایت کر دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان عوامی سطح پر دوستی اور رابطہ ہی بہتر تعلقات کی بنیاد بن سکتا ہے۔

آر ایس ایس رہنماء کا بیان

انڈین میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق آرمی چیف نے ہندو نظریاتی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے اہم رہنماء دتاتریہ ہوسبالے کے اس مؤقف کی تائید کی ہے جس میں انہوں نے پاکستان کے ساتھ بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے پر زور دیا تھا۔ دتاتریہ ہوسبالے نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا تھا کہ انڈیا کو ہمیشہ مذاکرات کے لیے تیار رہنا چاہیے اور سفارتی راستے بند نہیں کرنے چاہییں۔

عوامی مسائل اور چیلنجز

بدھ کے روز انڈیا کے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل ریٹائرڈ منوج نروانے نے انسانی ہمدردی کے پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحد کے دونوں جانب عام لوگ بستے ہیں جنہیں روٹی، کپڑا اور مکان جیسے ایک جیسے بنیادی مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ “عام آدمی کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، وہ صرف بہتر زندگی کا خواہش مند ہے۔”

تعلقات کی بہتری کا راستہ

سابق انڈین آرمی چیف نے اس بات پر زور دیا کہ جب دونوں اطراف کے عوام کے درمیان براہِ راست دوستی اور ہم آہنگی پیدا ہوگی، تو اس کا لازمی نتیجہ دونوں ممالک کے درمیان مجموعی دوستی کی صورت میں نکلے گا۔ سفارتی ماہرین منوج نروانے جیسے اہم عسکری پس منظر رکھنے والے شخص کے اس بیان کو خطے میں امن کی نئی کوششوں کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *