"> افغانستان اور انڈیا کے درمیان 46 ملین ڈالر کے معاہدے پر سابق افغان وزیر کی کڑی تنقید - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

افغانستان اور انڈیا کے درمیان 46 ملین ڈالر کے معاہدے پر سابق افغان وزیر کی کڑی تنقید

انڈیا اور طالبان حکومت کے درمیان 46 ملین ڈالر کے لیبارٹری معاہدے پر سابق افغان وزیر سید سادات نادری اور پاکستانی تجزیہ نگاروں نے اسے اسٹریٹجک مفادات اور خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
انڈیا اور طالبان حکومت کے درمیان 46 ملین ڈالر کے لیبارٹری معاہدے پر سابق افغان وزیر سید سادات نادری اور پاکستانی تجزیہ نگاروں نے اسے اسٹریٹجک مفادات اور خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

افغانستان اور انڈیا کے درمیان 46 ملین ڈالر سے زائد مالیت کے لیبارٹری پراجیکٹس؛ سابق افغان وزیر سید سادات نادری کی تنقید۔

May 14, 2026

افغانستان اور انڈیا کے درمیان لیبارٹری پراجیکٹس کے لیے 46 ملین ڈالر سے زائد کے حالیہ مالیاتی معاہدے نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سابق افغان وزیر سید سادات منصور نادری نے اس ڈیل پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے افغان عوام کے حقوق کی پامالی اور کسی ایک مسلح گروہ کو مضبوط کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

معاہدے کی تفصیلات

رپورٹس کے مطابق بھارتی کمپنی ٹی سی آر سی اور افغان طالبان کے زیرِ کنٹرول حکام کے درمیان کابل اور متعدد سرحدی گزرگاہوں پر لیبارٹری پراجیکٹس کے لیے 46 ملین ڈالر کا معاہدہ طے پایا ہے۔ سابق افغان وزیر سید سادات منصور نادری نے اس معاہدے کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسی مصروفیات اس حکومت کو طاقتور بنانے کا خطرہ پیدا کرتی ہیں جو افغان شہریوں کو دبانے اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالی میں ملوث ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان معاہدوں کا مقصد افغانستان کی فلاح و بہبود نہیں بلکہ خطے میں سیاسی اثر و رسوخ اور اسٹریٹجک مفادات کا حصول ہے۔

ماہرین نے اس معاہدے کو پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کی قیمت قرار دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اپنے ردعمل میں ان کا کہنا تھا کہ انڈیا اور افغانستان کے درمیان کابل اور سرحدی مقامات پر لیبارٹریز کے لیے یہ ڈیل ان خدمات کا معاوضہ ہے جو پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے فراہم کی گئیں۔ انہوں نے اسے خطے کو غیر مستحکم رکھنے کے لیے ایک بڑی سرمایہ کاری قرار دیا۔

افغان عوام کے لیے انتباہ

سید سادات نادری نے افغان عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ان پیش رفتوں کو افغانستان کے لیے حقیقی مدد کے طور پر نہ دیکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی طاقتیں اپنے مفادات کی بنیاد پر رابطے کر رہی ہیں نہ کہ افغانوں کے مستقبل کے لیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طالبان اب بھی بہت سے شہریوں کی نظر میں حقیقی قانونی حیثیت سے محروم ہیں۔

عالمی شراکت داروں سے مطالبہ

سابق افغان وزیر نے بھارت سمیت تمام عالمی شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ کسی ایک مسلح گروہ کو بااختیار بنانے کے بجائے ایک ایسے جامع افغان سیاسی عمل کی حمایت کریں جو امن، استحکام اور تمام افغانوں کے حقوق کو ترجیح دے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *