افغانستان اور انڈیا کے درمیان لیبارٹری پراجیکٹس کے لیے 46 ملین ڈالر سے زائد کے حالیہ مالیاتی معاہدے نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سابق افغان وزیر سید سادات منصور نادری نے اس ڈیل پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے افغان عوام کے حقوق کی پامالی اور کسی ایک مسلح گروہ کو مضبوط کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
معاہدے کی تفصیلات
رپورٹس کے مطابق بھارتی کمپنی ٹی سی آر سی اور افغان طالبان کے زیرِ کنٹرول حکام کے درمیان کابل اور متعدد سرحدی گزرگاہوں پر لیبارٹری پراجیکٹس کے لیے 46 ملین ڈالر کا معاہدہ طے پایا ہے۔ سابق افغان وزیر سید سادات منصور نادری نے اس معاہدے کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسی مصروفیات اس حکومت کو طاقتور بنانے کا خطرہ پیدا کرتی ہیں جو افغان شہریوں کو دبانے اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالی میں ملوث ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان معاہدوں کا مقصد افغانستان کی فلاح و بہبود نہیں بلکہ خطے میں سیاسی اثر و رسوخ اور اسٹریٹجک مفادات کا حصول ہے۔
The reward for spreading terrorism in Pakistan is being paid in full by the masters. This 46 million dollar deal between India and Afghanistan for labs in Kabul and at borders is just a payment for services rendered. A massive investment to keep our region unstable. pic.twitter.com/nLBnlw26D0
— Wajahat Kazmi (@KazmiWajahat) May 13, 2026
ماہرین نے اس معاہدے کو پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کی قیمت قرار دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اپنے ردعمل میں ان کا کہنا تھا کہ انڈیا اور افغانستان کے درمیان کابل اور سرحدی مقامات پر لیبارٹریز کے لیے یہ ڈیل ان خدمات کا معاوضہ ہے جو پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے فراہم کی گئیں۔ انہوں نے اسے خطے کو غیر مستحکم رکھنے کے لیے ایک بڑی سرمایہ کاری قرار دیا۔
افغان عوام کے لیے انتباہ
سید سادات نادری نے افغان عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ان پیش رفتوں کو افغانستان کے لیے حقیقی مدد کے طور پر نہ دیکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی طاقتیں اپنے مفادات کی بنیاد پر رابطے کر رہی ہیں نہ کہ افغانوں کے مستقبل کے لیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طالبان اب بھی بہت سے شہریوں کی نظر میں حقیقی قانونی حیثیت سے محروم ہیں۔
عالمی شراکت داروں سے مطالبہ
سابق افغان وزیر نے بھارت سمیت تمام عالمی شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ کسی ایک مسلح گروہ کو بااختیار بنانے کے بجائے ایک ایسے جامع افغان سیاسی عمل کی حمایت کریں جو امن، استحکام اور تمام افغانوں کے حقوق کو ترجیح دے۔