جنوبی ایشیا کی سیاسی بساط پر ایک بار پھر تزویراتی مہرے تیزی سے حرکت میں آ رہے ہیں۔ افغانستان اور بھارت کے درمیان حالیہ 46 ملین ڈالر کا مالیاتی معاہدہ، جو بظاہر کابل اور اہم سرحدی گزرگاہوں پر جدید لیبارٹریز کے قیام کے لیے ہے، محض ایک تجارتی معاہدہ معلوم نہیں ہوتا بلکہ دفاعی اور سیاسی تجزیہ نگار اسے ایک گہرے تزویراتی گٹھ جوڑ کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔ یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب طالبان حکومت عالمی تنہائی کا شکار ہے اور بھارت اپنی خارجہ پالیسی میں عملی پسندی کے نام پر افغان سرزمین پر اپنے قدم دوبارہ جمانے کے لیے بے چین نظر آتا ہے۔
اگست 2021 میں کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد بھارت نے اس سے مختلف پالیسی اپنائی تھی، لیکن اب دہلی اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرتے ہوئے تزویراتی متبادل پر کام کر رہا ہے جہاں وہ انسانی ہمدردی، ادویات اور تکنیکی امداد کے لبادے میں طالبان انتظامیہ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے اور کابل میں بھارتی سفارت خانے کے تکنیکی مشن کی بحالی اس گٹھ جوڑ کی سب سے مضبوط کڑی ہے۔
سابق افغان وزیر سید سادات منصور نادری نے اس معاہدے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے افغان عوام کے حقوق پر شب خون مارنے کے مترادف قرار دیا ہے کیونکہ ان کے مطابق بھارت ایک ایسی حکومت کو مالی آکسیجن فراہم کر رہا ہے جو اپنے شہریوں کے بنیادی حقوق سلب کرنے میں ملوث ہے۔ انہوں نے اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ بھارت کی دلچسپی افغان عوام کی فلاح و بہبود میں نہیں بلکہ اس تزویراتی گہرائی کے حصول میں ہے جس کا واحد مقصد پاکستان کو اس کی مغربی سرحد سے مسلسل دباؤ میں رکھنا اور خطے میں اپنے مخصوص سیاسی و عسکری مفادات حاصل کرنا ہے۔ بھارتی کمپنی اور طالبان کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے کے تحت کابل کے علاوہ طورخم، اسپن بولدک اور اسلام قلعہ جیسی اہم سرحدی گزرگاہوں پر لیبارٹریز کا قیام سکیورٹی کے حوالے سے ایک سنگین خطرہ ہے کیونکہ حساس سرحدی مقامات پر بھارتی ماہرین کی موجودگی کا مطلب ہے کہ دہلی اب پاکستان اور وسطی ایشیا کے درمیان ہونے والی تمام تجارتی و انسانی نقل و حرکت پر براہِ راست نظر رکھ سکے گا اور ان مراکز کی آڑ میں پاکستان کے لیے ایک نیا انٹیلی جنس چیلنج پیدا ہوگا۔
عالمی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ سرمایہ کاری دراصل ان خدمات کا معاوضہ ہے جو پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے کے لیے فراہم کی گئیں اور اسے ایک قسم کا پیمنٹ ماڈل کہا جا رہا ہے جہاں پاکستان مخالف سرگرمیوں اور ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کو سہولت کاری فراہم کرنے کے بدلے ترقیاتی منصوبوں کی شکل میں بھاری رقوم ادا کی جا رہی ہیں۔ بھارت کا قدیم فلسفہ رہا ہے کہ دشمن کے پڑوسی کو دوست بناؤ اور کابل سے پینگیں بڑھا کر بھارت پاکستان کے لیے ایک دوہرا محاذ قائم رکھنا چاہتا ہے جس سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑنے کا شدید خدشہ ہے۔ جب ایک نام نہاد جمہوری ملک ایک غیر آئینی حکومت کو مالی امداد دیتا ہے تو اس سے ان مسلح گروہوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے جو بندوق کے زور پر اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں، جبکہ دوسری جانب بھارت چابہار پورٹ اور افغان راہداریوں کو استعمال کر کے سی پیک کے متبادل کے طور پر خود کو پیش کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔
بھارت کی یہ ڈبل گیم اب کھل کر سامنے آ رہی ہے جہاں وہ ایک طرف عالمی فورمز پر دہشت گردی کے خلاف بلند بانگ دعوے کرتا ہے تو دوسری طرف کابل میں انھی عناصر کے ساتھ مالی سودے بازی کر رہا ہے جن پر دنیا نے پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ طالبان انتظامیہ کے لیے یہ مالی امداد ایک عارضی آکسیجن کی مانند تو ہو سکتی ہے لیکن اس کی قیمت افغان عوام کو اپنے بنیادی حقوق کی پامالی اور پاکستان کو اپنی سرحدی سلامتی پر سمجھوتے کی صورت میں ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔ متبادل مالی ذرائع میسر آنے پر طالبان انتظامیہ خواتین کی تعلیم اور انسانی حقوق کے حوالے سے عالمی برادری کے مطالبات کو یکسر مسترد کر رہی ہے جو افغان معاشرے کے لیے طویل مدتی نقصان کا باعث بنے گا۔
وقت کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری اور علاقائی اسٹیک ہولڈرز اس گٹھ جوڑ کے مضمرات کا ادراک کریں کیونکہ کسی ایک مسلح گروہ کو مالی طور پر بااختیار بنانا خطے میں پائیدار امن کے قیام میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوگا۔ اگر افغان سرزمین کو ایک بار پھر پاکستان کے خلاف پراکسی وار کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تو اس کے اثرات صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ عدم استحکام کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ طالبان انتظامیہ کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی تیسری طاقت کے تزویراتی آلے کے طور پر استعمال ہونا طویل مدت میں افغانستان کے اپنے قومی مفاد اور سلامتی کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہوگا اور خطے کا امن غارت کرنے کی یہ کوششیں خود ان کے اپنے اقتدار کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہیں۔