افغانستان کی حزبِ وحدت اسلامی کے سربراہ اور معروف ہزارہ رہنما محمد محقق نے کہا ہے کہ طالبان نے ملک میں جعفری فقہ کی سرکاری حیثیت کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک تفصیلی بیان میں انکشاف کیا کہ طالبان نے اہل تشیع کی مذہبی عبادات، نجی قوانین اور رسومات پر وسیع پیمانے پر دباؤ اور پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
محمد محقق کے مطابق طالبان کے حالیہ اقدامات میں شیعہ علماء کی توہین، ان پر تشدد، اور اہل تشیع کے ذاتی احوال اور مذہبی امور میں براہِ راست مداخلت شامل ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ طالبان کے یہ متعصبانہ اقدامات افغانستان میں سماجی اور مذہبی خلیج کو مزید گہرا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔
Mohammad Mohaqiq, leader of the People’s Islamic Unity Party of Afghanistan, said the Taliban have stripped the Jaafari jurisprudence of official recognition and imposed widespread pressure on the religious practices of Shia Muslims.https://t.co/L3qKs1NVX6 pic.twitter.com/GqdKNXKH6M
— Afghanistan International English (@AFIntl_En) May 16, 2026
اپنے بیان میں انہوں نے کابل کے ایک ممتاز شیعہ عالم اور پیش امام حسین داد شریفی کی حالیہ حراست اور ان پر ہونے والے جسمانی تشدد کا خاص طور پر حوالہ دیا۔ انہوں نے بتایا کہ طالبان حکام نے مولانا حسین داد شریفی کو صرف اس جرم میں تشدد اور تذلیل کا نشانہ بنایا کیونکہ انہوں نے ایک شیعہ جوڑے کا روایتی نکاح پڑھایا تھا۔
رپورٹس کے مطابق طالبان فورسز نے حال ہی میں درجنوں شیعہ علمائے کرام کو پولیس اسٹیشنز طلب کر کے ان سے زبردستی تحریری حلف نامے لیے ہیں کہ وہ شیعہ روایات کے مطابق شادیاں یا نکاح درج نہیں کریں گے، اور خلاف ورزی کی صورت میں انہیں چھ ماہ قید کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔
مذہبی دباؤ کے ساتھ ساتھ محمد محقق نے صوبہ دایکندی کے ایک واقعے کا بھی ذکر کیا، جہاں ان کے بقول ایک عمر رسیدہ پشتون شخص نے زبردستی ایک شادی شدہ جوان ہزارہ خاتون پر نکاح کا دعویٰ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ طالبان کی عدالت نے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے متاثرہ جوڑے پر شدید دباؤ ڈالا، ان کے رشتہ داروں کو حراست میں لیا، جس کے باعث متاثرہ خاندان کو لادین ہو کر علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔
اینٹی طالبان سیاست دان محمد محقق نے ان واقعات کو ہزارہ اور شیعہ برادری کے خلاف “مذہبی اور غیرت پر مبنی دباؤ” کی بدترین مثال قرار دیا۔ انہوں نے طالبان قیادت پر زور دیا کہ وہ ہزارہ اور شیعہ شہریوں کے نجی و مذہبی امور اور ان کے پرسنل لاء کا احترام کریں، کیونکہ اس طرح کی مسلسل مداخلت اور جبر سے کسی بھی فریق کو فائدہ نہیں پہنچے گا بلکہ معاشرے میں دشمنی اور اندرونی تناؤ مزید بڑھے گا۔