"> بی ایل اے میں کنٹرول کی جنگ شدت اختیار کر گئی، بشیر زیب گروپ کے ہاتھوں اہم کمانڈر کا بھائی ہلاک - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

بی ایل اے میں کنٹرول کی جنگ شدت اختیار کر گئی، بشیر زیب گروپ کے ہاتھوں اہم کمانڈر کا بھائی ہلاک

کالعدم بی ایل اے کے اندرونی دھڑوں میں کنٹرول کی جنگ شدت اختیار کر گئی، بشیر زیب گروپ نے اہم کمانڈر کے بھائی کو ہلاک کر دیا، جبکہ تنازع کی وجہ گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا اغوا بتایا جا رہا ہے۔
کالعدم بی ایل اے کے اندرونی دھڑوں میں کنٹرول کی جنگ شدت اختیار کر گئی، بشیر زیب گروپ نے اہم کمانڈر کے بھائی کو ہلاک کر دیا، جبکہ تنازع کی وجہ گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا اغوا بتایا جا رہا ہے۔

کالعدم بی ایل اے کے اندرونی دھڑوں میں کمانڈ اور کنٹرول پر شدید لڑائی۔ بشیر زیب گروپ نے کمانڈر 'بہوٹ' کے بڑے بھائی حیات خان کو ہلاک کر دیا۔ وائس چانسلر گوادر یونیورسٹی کا اغوا اندرونی تصادم کی بنیادی وجہ بن گیا۔

May 16, 2026

بلوچستان میں سرگرم کالعدم علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے مختلف دھڑوں کے مابین اندرونی اثر و رسوخ، کمانڈ اور کنٹرول کی جنگ انتہائی شدت اختیار کر گئی ہے۔ تنظیم کے اندر جاری اسی شدید لڑائی کے دوران بی ایل اے کے بشیر زیب گروپ نے کارروائی کرتے ہوئے حریف کمانڈر ایس ایم ہینڈل عرف “بہوٹ” کے بڑے بھائی حیات خان کو ہلاک کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس ہلاکت کے بعد تنظیم کے اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔

بشیر زیب کی اتھارٹی کو چیلنج

ذرائع اور موصولہ اطلاعات کے مطابق اس خونریز پیش رفت کا پس منظر چند روز قبل پیش آنے والا ایک واقعہ ہے، جس میں کالعدم بی آر اے (بلوچستان ریپبلکن آرمی) سے وابستہ عناصر نے، جو موجودہ وقت میں بی ایل اے کے اندر ہی سرگرم ہیں، اپنے کمانڈر “بہوٹ” کے ایما پر گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو اغوا کر لیا تھا۔ وائس چانسلر کے اس ہائی پروفائل اغوا کو بی ایل اے کے مرکزی سربراہ بشیر زیب کی اتھارٹی اور کمانڈ کے لیے ایک کھلا چیلنج تصور کیا گیا۔

ذاتی قبائلی تنازع کا تنظیمی رنگ

حالات سے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے اغوا کا معاملہ کسی تنظیمی پالیسی کا حصہ نہیں تھا، بلکہ اس کا تعلق بنیادی طور پر وائس چانسلر کی اہلیہ کے خاندان اور بی ایل اے کے کمانڈر بہت اور حیات خان کے درمیان طویل عرصے سے جاری ایک قبائلی تنازع سے تھا، جو سراسر ذاتی نوعیت کا تھا۔ تاہم، یہ تمام تر کارروائی بشیر زیب کی پیشگی منظوری اور علم میں لائے بغیر کی گئی، جس پر بشیر زیب گروپ کی جانب سے اپنی تنظیمی رٹ برقرار رکھنے کے لیے فوری، سخت اور خونریز ردِعمل سامنے آیا اور حیات خان کو نشانہ بنایا گیا۔

مزید ٹارگٹ کلنگز کا خدشہ

دفاعی اور سیکیورٹی ذرائع نے متبادل اشارے دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ حیات خان کے قتل کے بعد کالعدم تنظیم کے اندر بدلے کی آگ مزید بھڑک اٹھی ہے۔ آنے والے دنوں میں ان متحارب دھڑوں کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف مزید ٹارگٹ کلنگز، اندرونی تصفیوں اور مہلک حملوں کے احکامات جاری کیے جانے کا قوی امکان ہے، جس سے اس علیحدگی پسند نیٹ ورک کے مزید کمزور اور ٹکڑوں میں تقسیم ہونے کے واضح آثار نظر آ رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *