صدر پزشکیان کا کہنا ہے ایران طاقت کی پوزیشن میں ہے، اب جنگ ختم کرنا بہتر ہو گا۔

August 22, 2026

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے مسائل کا حل گرینڈ ڈائیلاگ میں ہے، فتنہ الخوارج دشمن ملک سے وسائل حاصل کر رہا ہے۔

August 21, 2026

وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، کمانڈر خالد گل سمیت 3 دہشت گرد ہلاک۔

August 21, 2026

سکیورٹی فورسز کے مشترکہ آپریشنز میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے 49 دہشت گرد ہلاک۔

August 21, 2026

تاجکستان میں افغان سفارتخانے میں این آر ایف کے شہید کمانڈر حسیب پنجشیری کی یاد میں قرآن خوانی اور آزادی و انصاف کے عزم کی تجدید کی گئی۔

August 21, 2026

ایرانی چیف آف جنرل اسٹاف علی عبداللہی کا کہنا ہے کہ مخالفین کی کسی بھی غلط اندازے یا خطرے کا فیصلہ کن اور تباہ کن جواب دیا جائے گا۔

August 21, 2026

بی ایل اے میں کنٹرول کی جنگ شدت اختیار کر گئی، بشیر زیب گروپ کے ہاتھوں اہم کمانڈر کا بھائی ہلاک

کالعدم بی ایل اے کے اندرونی دھڑوں میں کنٹرول کی جنگ شدت اختیار کر گئی، بشیر زیب گروپ نے اہم کمانڈر کے بھائی کو ہلاک کر دیا، جبکہ تنازع کی وجہ گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا اغوا بتایا جا رہا ہے۔
کالعدم بی ایل اے کے اندرونی دھڑوں میں کنٹرول کی جنگ شدت اختیار کر گئی، بشیر زیب گروپ نے اہم کمانڈر کے بھائی کو ہلاک کر دیا، جبکہ تنازع کی وجہ گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا اغوا بتایا جا رہا ہے۔

کالعدم بی ایل اے کے اندرونی دھڑوں میں کمانڈ اور کنٹرول پر شدید لڑائی۔ بشیر زیب گروپ نے کمانڈر 'بہوٹ' کے بڑے بھائی حیات خان کو ہلاک کر دیا۔ وائس چانسلر گوادر یونیورسٹی کا اغوا اندرونی تصادم کی بنیادی وجہ بن گیا۔

May 16, 2026

بلوچستان میں سرگرم کالعدم علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے مختلف دھڑوں کے مابین اندرونی اثر و رسوخ، کمانڈ اور کنٹرول کی جنگ انتہائی شدت اختیار کر گئی ہے۔ تنظیم کے اندر جاری اسی شدید لڑائی کے دوران بی ایل اے کے بشیر زیب گروپ نے کارروائی کرتے ہوئے حریف کمانڈر ایس ایم ہینڈل عرف “بہوٹ” کے بڑے بھائی حیات خان کو ہلاک کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس ہلاکت کے بعد تنظیم کے اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔

بشیر زیب کی اتھارٹی کو چیلنج

ذرائع اور موصولہ اطلاعات کے مطابق اس خونریز پیش رفت کا پس منظر چند روز قبل پیش آنے والا ایک واقعہ ہے، جس میں کالعدم بی آر اے (بلوچستان ریپبلکن آرمی) سے وابستہ عناصر نے، جو موجودہ وقت میں بی ایل اے کے اندر ہی سرگرم ہیں، اپنے کمانڈر “بہوٹ” کے ایما پر گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو اغوا کر لیا تھا۔ وائس چانسلر کے اس ہائی پروفائل اغوا کو بی ایل اے کے مرکزی سربراہ بشیر زیب کی اتھارٹی اور کمانڈ کے لیے ایک کھلا چیلنج تصور کیا گیا۔

ذاتی قبائلی تنازع کا تنظیمی رنگ

حالات سے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے اغوا کا معاملہ کسی تنظیمی پالیسی کا حصہ نہیں تھا، بلکہ اس کا تعلق بنیادی طور پر وائس چانسلر کی اہلیہ کے خاندان اور بی ایل اے کے کمانڈر بہت اور حیات خان کے درمیان طویل عرصے سے جاری ایک قبائلی تنازع سے تھا، جو سراسر ذاتی نوعیت کا تھا۔ تاہم، یہ تمام تر کارروائی بشیر زیب کی پیشگی منظوری اور علم میں لائے بغیر کی گئی، جس پر بشیر زیب گروپ کی جانب سے اپنی تنظیمی رٹ برقرار رکھنے کے لیے فوری، سخت اور خونریز ردِعمل سامنے آیا اور حیات خان کو نشانہ بنایا گیا۔

مزید ٹارگٹ کلنگز کا خدشہ

دفاعی اور سیکیورٹی ذرائع نے متبادل اشارے دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ حیات خان کے قتل کے بعد کالعدم تنظیم کے اندر بدلے کی آگ مزید بھڑک اٹھی ہے۔ آنے والے دنوں میں ان متحارب دھڑوں کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف مزید ٹارگٹ کلنگز، اندرونی تصفیوں اور مہلک حملوں کے احکامات جاری کیے جانے کا قوی امکان ہے، جس سے اس علیحدگی پسند نیٹ ورک کے مزید کمزور اور ٹکڑوں میں تقسیم ہونے کے واضح آثار نظر آ رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

صدر پزشکیان کا کہنا ہے ایران طاقت کی پوزیشن میں ہے، اب جنگ ختم کرنا بہتر ہو گا۔

August 22, 2026

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے مسائل کا حل گرینڈ ڈائیلاگ میں ہے، فتنہ الخوارج دشمن ملک سے وسائل حاصل کر رہا ہے۔

August 21, 2026

وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، کمانڈر خالد گل سمیت 3 دہشت گرد ہلاک۔

August 21, 2026

سکیورٹی فورسز کے مشترکہ آپریشنز میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے 49 دہشت گرد ہلاک۔

August 21, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *