بلوچستان میں سرگرم کالعدم علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے مختلف دھڑوں کے مابین اندرونی اثر و رسوخ، کمانڈ اور کنٹرول کی جنگ انتہائی شدت اختیار کر گئی ہے۔ تنظیم کے اندر جاری اسی شدید لڑائی کے دوران بی ایل اے کے بشیر زیب گروپ نے کارروائی کرتے ہوئے حریف کمانڈر ایس ایم ہینڈل عرف “بہوٹ” کے بڑے بھائی حیات خان کو ہلاک کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس ہلاکت کے بعد تنظیم کے اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔
بشیر زیب کی اتھارٹی کو چیلنج
ذرائع اور موصولہ اطلاعات کے مطابق اس خونریز پیش رفت کا پس منظر چند روز قبل پیش آنے والا ایک واقعہ ہے، جس میں کالعدم بی آر اے (بلوچستان ریپبلکن آرمی) سے وابستہ عناصر نے، جو موجودہ وقت میں بی ایل اے کے اندر ہی سرگرم ہیں، اپنے کمانڈر “بہوٹ” کے ایما پر گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو اغوا کر لیا تھا۔ وائس چانسلر کے اس ہائی پروفائل اغوا کو بی ایل اے کے مرکزی سربراہ بشیر زیب کی اتھارٹی اور کمانڈ کے لیے ایک کھلا چیلنج تصور کیا گیا۔
ذاتی قبائلی تنازع کا تنظیمی رنگ
حالات سے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے اغوا کا معاملہ کسی تنظیمی پالیسی کا حصہ نہیں تھا، بلکہ اس کا تعلق بنیادی طور پر وائس چانسلر کی اہلیہ کے خاندان اور بی ایل اے کے کمانڈر بہت اور حیات خان کے درمیان طویل عرصے سے جاری ایک قبائلی تنازع سے تھا، جو سراسر ذاتی نوعیت کا تھا۔ تاہم، یہ تمام تر کارروائی بشیر زیب کی پیشگی منظوری اور علم میں لائے بغیر کی گئی، جس پر بشیر زیب گروپ کی جانب سے اپنی تنظیمی رٹ برقرار رکھنے کے لیے فوری، سخت اور خونریز ردِعمل سامنے آیا اور حیات خان کو نشانہ بنایا گیا۔
مزید ٹارگٹ کلنگز کا خدشہ
دفاعی اور سیکیورٹی ذرائع نے متبادل اشارے دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ حیات خان کے قتل کے بعد کالعدم تنظیم کے اندر بدلے کی آگ مزید بھڑک اٹھی ہے۔ آنے والے دنوں میں ان متحارب دھڑوں کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف مزید ٹارگٹ کلنگز، اندرونی تصفیوں اور مہلک حملوں کے احکامات جاری کیے جانے کا قوی امکان ہے، جس سے اس علیحدگی پسند نیٹ ورک کے مزید کمزور اور ٹکڑوں میں تقسیم ہونے کے واضح آثار نظر آ رہے ہیں۔