یو ایس سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر ایڈمرل کوپر نے امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر ایک اہم بریفنگ دی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی ساکھ کو مضبوط الفاظ میں تسلیم کرتے ہوئے اسلام آباد کو خطے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ایک قابلِ اعتماد اور ناگزیر شراکت دار قرار دیا ہے۔
ایڈمرل کوپر نے سینیٹ کمیٹی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت خطے میں دہشت گردی اور عدم استحکام کا بنیادی ذریعہ وہ شدت پسند نیٹ ورکس ہیں جو افغانستان اور اس کے گرد و نواح کی سرزمیں پر سرگرم ہیں۔ کمانڈر سینٹ کام نے کھلے الفاظ میں اعتراف کیا کہ افغانستان سے جنم لینے والے سرحد پار کارروائیاں کے خطرات ناصرف اس خطے بلکہ خود امریکہ کی سلامتی کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ یہ جائزہ پاکستان کے اس دیرینہ موقف کی عالمی سطح پر توثیق کرتا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے علاقائی امن کے لیے مستقل خطرہ ہیں۔
داعش خراسان کے خلاف کردار
بریفنگ کے دوران کمانڈر سینٹ کام نے پاکستان کو داعش خراسان کے خلاف ایک “اہم انسدادِ دہشت گردی شراکت دار” قرار دیا اور عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے فرنٹ لائن کردار کو مؤثر انداز میں تسلیم کیا۔ انہوں نے متبادل اشارے دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر خطے میں انسدادِ دہشت گردی کا یہ دباؤ کم ہوا، تو داعش اور اس سے وابستہ دیگر گروہ دوبارہ منظم ہو کر افغانستان کے غیر مستحکم علاقوں میں اپنی طاقت بحال کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ وسطی ایشیائی ریاستوں میں بھی افغانستان سے ابھرنے والے ان خطرات کے باعث بے چینی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
عسکری تعاون کے نتائج
ایڈمرل کوپر نے اعتراف کیا کہ پاکستان اور امریکہ کے مابین قائم عسکری و انٹیلیجنس تعاون نے ماضی اور حال میں ایسے اہم دہشت گردوں کے خلاف “واضح اور دوررس نتائج” دیے ہیں جو امریکی فورسز پر حملوں اور ہلاکتوں میں براہِ راست ملوث تھے۔ سینٹ کام کے اس جائزے نے پاکستان کو مسئلے کا حصہ قرار دینے والے تمام تر مخالفانہ اور من گھڑت پروپیگنڈے کو یکسر مسترد کر دیا ہے، اور پاکستان کو علاقائی سیکیورٹی حکمتِ عملی کے ایک مثبت اور اہم ترین جزو کے طور پر پیش کیا ہے۔
پروپیگنڈا کی ناکامی
دفاعی مبصرین کے مطابق، ایڈمرل کوپر کا یہ تفصیلی بیان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی لازوال قربانیوں، آپریشنل صلاحیتوں اور اسٹریٹجک اہمیت کی ایک اور بڑی بین الاقوامی توثیق ہے۔ سینٹ کام کا یہ موقف ان بیرونی و اندرونی اطلاعاتی مہمات (ففتھ جنریشن وارفیئر) کو بری طرح کمزور کرتا ہے جو اصل دہشت گرد خطرات سے توجہ ہٹاتے ہوئے پاکستان کو سفارتی سطح پر تنہا کرنے کی کوششیں کرتی رہی ہیں۔
پاکستان کی اسٹریٹجک اہمیت
کمانڈر سینٹ کام کے ان ریمارکس کے بعد اب بین الاقوامی برادری کے لیے اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں رہا کہ افغانستان کا اندرونی عدم استحکام پورے خطے پر براہِ راست اثرانداز ہو رہا ہے۔ اس بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال میں پاکستان کی جغرافیائی اور اسٹریٹجک اہمیت ایک بار پھر نمایاں ہو گئی ہے، جہاں امریکی سینٹ کام انسدادِ دہشت گردی، آپریشنل رسائی اور مؤثر سیکیورٹی نتائج حاصل کرنے کے لیے مسلسل اسلام آباد کے تعاون پر انحصار کر رہا ہے۔